ہرشخص سالانہ 50 ہزار پلاسٹک ذرات نگل رہا ہے،تحقیق

کراچی: کینیڈین ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ہرشخص سالانہ پچاس ہزار پلاسٹک ذرات نگل رہا ہے۔ کینیڈا میں ہونے والی تحقیق کے مطابق انسان نہ صرف پلاسٹک ذرات کو بطور غذا نگل رہا ہے بلکہ وہ سانس لینے کے دوران بھی پلاسٹک کے انتہائی چھوٹے ذرات کو اپنے جسم میں داخل کرتاہے۔

 رپورٹ میں بتایا گیا کہ پلاسٹک کی مصنوعات سے انتہائی چھوٹے اورنظر نہ آنے والے پلاسٹک کے ذرات پانی، کھانوں، مشروب اور مصالحہ جات میں گھل کر انسان کی غذا میں شامل ہو رہے ہیں۔ شہروں کی آلودہ ہوا، ساحل سمندر کی ریت اور سمندر میں نہانے کے دوران بھی پلاسٹک ذرات سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو رہے ہیں۔

تحقیقیی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زمین کی ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں پلاسٹک ذرات موجود نہ ہوں۔ سمندر کی گہرائی سے لے کر ساحل سمندر کی ریت، پانی کی بوتل سے لے کر ڈسپوزیبل کھانے کے پیکٹوں اور راستوں پر پلاسٹک یا اس کے ذرات موجود ہوتے ہیں، یہی چیزیں انسانی صحت کے لیے خطرہ ثابت ہو رہی ہیں۔