جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

اسلام آباد میں جرائم اور گمشدگیوں کے بڑھتے کیسز، شہزاد اکبر کی طلبی کا تحریری حکم نامہ جاری

شہزاد اکبر کی

اسلام آباد : وفاقی دارالحکومت میں مختلف جرائم کے بڑھتے کیسز پر مشیر داخلہ شہزاد اکبر کی طلبی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں جرائم، گمشدگیوں اور زمینوں پر قبضوں کے بڑھتے کیسز پر مشیر داخلہ شہزاد اکبر کی طلبی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے پانچ صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کیا۔

تحریری فیصلے کے مطابق اسلام آباد میں زمینوں پر قبضوں کے جرائم کا رجحان بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ حیران کن طور پر ریاست کی وزارتیں اور ادارے ریئل اسٹیٹ کا غیر قانونی کاروبار کر رہے ہیں، جو مفادات کے ٹکراؤ کا سنجیدہ سوال کھڑا کرتا ہے۔

رپورٹس بتا رہی ہیں کہ سسٹم کس طرح کرپشن زدہ ہو چکا اور تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اسلام آباد کی طاقتور ایلیٹ قانون کی دھجیاں بکھیرنے کی براہ راست ذمہ دار ہیں۔ یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ ریاست عام شہریوں کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے۔

شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے بنائے گئے ادارے بالواسطہ یا بلاواسطہ مبینہ قانون توڑنے میں لگے ہیں۔ اسلام آباد میں امن و امان کی خوفناک صورتحال ناقابل برداشت ہے۔ عام شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، شہریوں کا نظام انصاف پر سے اعتبار اٹھتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد ہائی کورٹ نے زلفی بخاری کی بطور چیئرمین پی ٹی ڈی سی تعیناتی پر تمام ریکارڈ طلب کرلیا

امن و امان کی یہ حالت اچانک نہیں بلکہ دہائیوں سے منتخب اور غیر منتخب حکومتوں کی طرزحکمرانی کی وجہ سے ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قانون کی بالادستی یقینی بنا کر شہریوں کا اعتماد بحال کرے۔ آئی جی اسلام آباد نے اپنی رپورٹ میں ملزمان کی تفتیش اور پراسیکیوشن میں خامیوں کا اعتراف کیا۔

اسلام آبا ہائی کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ چیف کمشنر اسلام آباد کو اسلام آباد میں پراسیکیوشن برانچ قائم کرنے کا بار بار حکم دیا لیکن عملدرآمد نہ ہوا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ شہزاد اکبر کو 21 ستمبر کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوں۔

شہزاد اکبر بتائیں کہ کیا انہوں نے امن و امان کی صورتحال اور عام شہریوں کے تحفظ کیلئے وزیراعظم کو کوئی ایڈوائس دی۔ چیف کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور آئی جی اسلام آباد بھی ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوں۔

عدالت نے وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل اور صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کو بھی معاونت کیلئے طلب کرلیا۔

متعلقہ خبریں