جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

رخسانہ بنگش کیس : نیب کے کیسز صرف سیاسی بنیادوں پر ہیں : اسلام آباد ہائی کورٹ

نیب کے کیسز صرف

اسلام آباد : جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ روزانہ کی بنیاد پر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس نیب کے خلاف فیصلہ دیتے ہیں، نیب کے کیسز صرف سیاسی بنیادوں پر ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں رہنماء پیپلز پارٹی رخسانہ بنگش کی آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کی سماعت ہوئی۔ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کیس کی سماعت کی۔

رخسانہ بنگش کی جانب سے فاروق ایچ نائیک عدالت پیش ہوئے۔ فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے نوٹس ہی غلط لکھا ہے،

جس میں رخسانہ بنگش کے خلاف کوئی انکوائری نہیں۔ رخسانہ بنگش نہ کبھی وزیر رہی اور نہ ہی کوئی مشیر۔ عمر منظور نامی بزنس مین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، جسے ایک انکوائری میں شامل کیا گیا۔ نیب نے اختیارات کا استعمال کرکے نوٹس کیا۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ درخواست گزار نے نیب سوالنامہ کا جواب جمع کرایا؟ فاروق ایچ نائیک نے رخسانہ بنگش کو بھیجے گئے سوالنامے کو عدالت میں جمع کرادیا۔ وکیل نے کہا کہ پیراوئز کمنٹس میں نیب نے کوئی الزام نہیں لگایا۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ نیب کو پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کیا کرتا ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح کہا ہے کہ کال اپ نوٹس ضروری ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر کا کام یہی ہے کہ چار لائن لکھ کر آگاہ کریں۔ روزانہ کی بنیاد پر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس آپ لوگوں کے خلاف فیصلہ دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : نیب کا خواجہ سعد رفیق کے خلاف لوکو موٹیو خریدنے پر انکوائری بند کرنے کا فیصلہ

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نیب کو انگریزی سمجھ نہیں آتی اب کیا آرڈر اردو میں لکھنا ہوگا۔ نیب کال اپ نوٹس سپریم کورٹ کے فیصلے کے منافی ہے۔ سوالنامہ میں وراثت، اور تعلیمی اسناد کا کیا کام جو آپ لوگ مانگ رہے ہیں۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اب تو یہی ہوگا کہ کوئی بزنس مین کوئی ٹرانزیکشن ہی نہ کرے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کو نوٹس کرتے ہیں تاکہ وہ بتائے کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس نیب کا دائرہ اختیار کیسے ہے۔

عدالت نے کہا کہ ڈکلیئر اکاؤنٹ میں آپ کا ذرائع آمدن کہاں سے آگیا۔ ڈکلیئر اکاؤنٹ سے ٹرانزیکشن پر ایف بی آر نے ہی پوچھنا ہے، نیب کہاں سے آگیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے نیب پراسیکوٹر پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ نیب کے کیسز صرف سیاسی بنیادوں پر ہیں۔ ان کو بتائیں جن کو نہیں پتہ 26 سال ان معاملات میں زندگی گزاری۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ شکایت کنندہ خفیہ ہے، اسے ہم نہیں دکھا سکتے۔

عدالت نے کیس کے تفتیشی پر سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ  آپ سے کس نے کہا کہ شکایت کنندہ خفیہ ہے، عدالت میں ساری چیزیں پیش کرنی ہوتی ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے رہنماء پیپلز پارٹی رخسانہ بنگش کی آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کردی اور نیب ڈائریکٹر کو ریکارڈ سمیت ذاتی حیثیت میں آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آئندہ سماعت پر اگر ڈائریکٹر نہیں آئے تو ڈائریکٹر جنرل کو بلائیں گے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 20 جنوری تک کے لئے ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں