صبر کریں! آپ کو بہت کچھ دیکھنا پڑے گا : پرویز خٹک

صبر پرویز خٹک

اسلام آباد : پرویز خٹک نے کہا کہ جرگہ ٹائم پاس کرنے کے لیے ہے تو ہم بھی آپ کے ساتھ ٹائم پاس کرتے ہیں۔ صبر کریں آپ کو بہت کچھ دیکھنا پڑے گا، یہ تماشا اور نہیں چلے گا۔

وزیر دفاع پرویز خٹک نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم مسئلے کا حل چاہتے ہیں، 40 سال سے سیاست میں ہوں سارے حالات دیکھے ہیں۔ وزارت چھوڑ کر عمران خان کی پارٹی میں شمولیت اختیار کی، جمہوریت کے تمام رموز بخوبی جانتا ہوں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ وزیراعظم نے مجھے مذاکراتی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا اور میں نے اسپیکر اسمبلی کو حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا رکن مقرر کیا، آج یہ جمہوریت اور قانون کی باتیں سکھاتے ہیں، جو ملک آپ چھوڑ کر گئے اس کا حساب دینا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : مولانا صاحب! اگر دھاندلی ہوئی تھی تو آپ نے صدر کا الیکشن کیوں لڑا؟ فردوس عاشق

پرویز خٹک نے علی امین گنڈا پور فخر ہے، جنہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کو دوبارہ انتخابات کا چیلنج دیا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ غلط بیانی پاکستان کو نہ سنائیں بلکہ حقیقت سنائیں کہ ملک میں کیا ہورہا ہے اور یہ کیا چاہتے ہیں، مولانا فضل الرحمٰن وہاں بیٹھے ہیں بات نہیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم الیکشن نہیں مانتے دوبارہ بھی الیکشن ہوا اور پاکستان تحریک انصاف جیت گئی تو بھی ہم نہیں مانتے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں ان سے کہتا ہوں صبر کریں آپ کو بہت کچھ دیکھنا پڑے گا، یہ تماشا اور نہیں چلے گا، اس طرح یہ ملک نہیں چلے گا، آپ پاکستان میں جمہوریت اور قانون نہیں مانتے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اپوزیشن کو کہتا ہوں، مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی مولانا کو اسمبلی میں لائیں اور پھر جمہوریت کی بات کریں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ جمہوریت کی بات کرنے والوں نے ملک کا بیڑا غرق کردیا ہے، سب تماشے دیکھے ہیں، بھٹو کو کس نے گرایا؟ نواز شریف کی حکومت کس نے ختم کی؟ یہی لوگ کھڑے ہوئے انہوں نے مل کر سب کو گرایا۔

انہوں نے واضح کیا کہ جمہوریت اور ملک کو چلانا چاہتے ہیں تو آکر بات کریں، وہاں دھرنا دیا ہے، تو بیٹھے رہیں لیکن ملک کو نقصان نہیں پہنچانا، ملک کو تباہ نہیں کرنا۔

پرویز خٹک نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کہتے ہیں یہ جرگہ ٹائم پاس کرنے کے لیے ہے تو ہم بھی آپ کے ساتھ ٹائم پاس کرتے ہیں۔