صدارتی آرڈیننس کے خلاف مسلم لیگ ن کی درخواست، فریقین کو نوٹسز جاری

صدارتی آرڈیننس

اسلام آباد : صدارتی آرڈیننس کے خلاف مسلم لیگ ن کی درخواست پر سماعت، عدالت نے وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کرلیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے جاری کیئے گئے صدارتی آرڈیننس کے خلاف مسلم لیگ ن کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کرلیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے ایک دن میں آٹھ آرڈیننس منظور کئے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ تو اچھے ایشوز پر آرڈیننس جاری کئے۔ محسن شاہنواز رانجھا رکن قومی اسمبلی ہیں، پارلیمنٹ کی بجائے عدالت سے رجوع کرنا کیا پارلیمنٹ کی توہین نہیں؟  

محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ آئین نے ایک طریقہ کار طے کررکھا ہے۔ ہم عوامی مفاد میں آئینی طریقہ کار کے تحت حکومت کے اقدامات کو سپورٹ کرنے کو تیار ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مسائل کو پارلیمنٹ میں حل کریں۔ کیا اپوزیشن نے یہ معاملہ اسپیکر کے علم میں لایا؟ پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ ہوتی ہے۔ آپ اچھے آرڈیننس کو بھی عدالت میں لے آئے ہیں۔ آرڈیننس کی ایک مدت ہوتی ہے اس میں توسیع نہیں ہوسکتی۔

محسن شاہنواز رانجھا نے اپنی مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آرڈیننس کو چیلنج نہیں کیا بلکہ جس طریقے سے پاس کیا گیا وہ چیلنج کیا ہے۔ آئین میں دیا گیا طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ رکن اسمبلی کی ذمہ داری ہے عدلیہ کو سیاسی معاملات سے دور رکھے۔ محسن شاہنواز رانجھا لاء میکر ہیں اور اپوزیشن کا حصہ ہیں۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بھارت میں بھی آرڈیننس کا اختیار موجود ہے، مگر وہ بہت کم آرڈیننس لاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : نیب ترمیمی آرڈیننس سمیت آٹھ نئے آرڈیننس کی منظوری

عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے آرٹیکل 89 کے دائر اختیار کو چیلنج کیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق آرڈیننسز صرف ایمرجنسی میں جاری کیے جاسکتے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق مستقل قانون سازی آرڈیننس کے ذریعے نہیں ہوسکتی۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت دو ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔

زیر التواء مقدمے پر بیان بازی پر لیگی رہنماء محسن شاہنواز رانجھا پر بھی توہین عدالت کی تلوار لٹکنے لگی ہے۔

صدارتی آرڈیننس کے خلاف مسلم لیگ ن کی درخواست پر سماعت کے موقع پر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ رانجھا صاحب آپ کو زیر سماعت مقدمے پر بات کرنے سے روکا تھاْ آپ نے کہا کہ عدالت نے کہا کہ صدر پاکستان کا مواخذہ کیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے کب ایسا بیان دیا ہے؟  

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے؟  محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں آئندہ ایسا نہیں ہوگا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ چلیں دیکھتے ہیں اس کا کیا کرنا ہے۔