جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

بیانات پر دکھ ہوا، کسی بھی دباؤ میں نہیں آئیں گے : الیکشن کمیشن

کسی بھی دباؤ میں

اسلام آباد : الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کے بیانات پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی بھی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی وزراء کی پریس کانفرنس اور وزیر اعظم عمران خان کے الیکشن کمیشن پر لگائے گئے الزامات پر اعلامیہ جاری کردیا ہے۔

اعلامیہ کے مطابق آئین اور قانون کے مطابق سینیٹ انتخابات کروانے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ الیکشن کمیشن ایک آئینی اور آزاد ادارہ ہے۔ الیکشن کمیشن کو ہی دیکھنا ہے کہ آئین اور قانون اسے کیا اجازت دیتے ہیں۔

کسی کی خوشنودی کے لیے آئین اور قانون نظر انداز نہیں کر سکتے اور نہ ترمیم کر سکتے ہیں۔ اگر کسی کو الیکشن کمیشن کے فیصلوں پر اعتراض ہے تو آئینی راستہ اختیار کرے۔

الیکشن کے رزلٹ کے بعد میڈیا کی وساطت سے جو خیالات ہمارے مشاہدے میں آئے، ان کو سن کر دکھ ہوا۔ خصوصی طور پر وفاقی کابینہ کے چند ارکان اور بالخصوص جناب وزیر اعظم پاکستان نے جو کل اپنے خطاب میں فرمایا۔ ہم کسی بھی دباؤ میں نہ آئے ہیں اور نہ ہی انشااللہ آئیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی نے این اے 75 ڈسکہ کے نتائج پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کردیا

الیکشن کمیشن نے ہر کسی کا مؤقف سنا، ان کی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا، الیکشن کمیشن سب کی سنتا ہے مگر وہ صرف اور صرف آئین وقانون کی روشنی میں ہی اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے اور آزادانہ طور پر بغیر کسی دباؤ کے فیصلے کرتا ہے تاکہ پاکستان کے عوام میں جمہوریت کو فروغ ملے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق حیران کن بات ہے کہ ایک ہی روز ایک ہی چھت کے نیچے ایک ہی الیکٹورل میں ایک ہی عملے کی موجودگی میں جو ہار گئے، وہ نامنظور اور جو جیت گئے وہ منظور، کیا یہ کھلا تضاد نہیں جبکہ باقی تمام صوبوں کے نتائج قبول، جس نتیجے پر تبصرہ اور ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے، الیکشن کمیشن اس کو مسترد کرتا ہے۔

یہی ہے جمہوریت اور آزادانہ الیکشن اور خفیہ بیلٹ کا حسن جو پوری قوم نے دیکھا اور یہی آئین کی منشا تھی، جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے، وہ پارلیمنٹ سے منظور کروانے میں کیا امر مانع تھا جبکہ الیکشن کمیشن کا کام قانون سازی نہیں ہے بلکہ قانون کی پاسبانی ہے۔

ای سی پی نے واضح کیا کہ اگر اسی طرح آئینی اداروں کی تضحیک کی جاتی رہی تو یہ ان کی کمزوری کے مترادف ہے نہ کہ الیکشن کمیشن کی۔ ہر سیاسی جماعت اور شخص میں شکست تسلیم کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے، اگر کہیں اختلاف ہے تو شواہد کے ساتھ آ کر بات کریں، آپ کی تجاویز سن سکتے ہیں تو شکایات کیوں نہیں، لہٰذا ہمیں کام کرنے دیں، ملکی اداروں پر کیچڑ نہ اچھالیں۔

کچھ تو احساس کریں، الیکشن کمیشن ان شااللہ خدا کے فضل وکرم سے اپنی آئینی ذمہ داریاں بخوبی قانون اور آئین کی بالا دستی کے لیے احسن طریقے سے انجام دیتا رہے گا۔

متعلقہ خبریں