جی ٹی وی نیٹ ورک
انٹرٹینمنٹ

سرکاری افسر بمقابلہ غیر سرکاری افسر

پنجاب سے کراچی جانا ہو تو لوگ مہینہ بھر تیاری کرتے ہیں کہ پردیس جانا ہے، جہاں بڑے بڑے تھیلے تیار ہوتے ہیں وہیں اس بات پر بھی خاندان بھر کے بزرگوں کی بیٹھک ہوتی ہے کہ ٹرین کا سفر بہتر رہے گا یا بس سے جانا بہتر ہے۔

مجھے ذاتی طور پر تو بس کا سفر پسند ہے لیکن جب سے شادی شدہ ہوئے ہیں تو دیگر پسندیدگیوں کے ساتھ ساتھ اس پسند کا بھی قسمت نے قلعہ قمہ کر چھوڑا ہے۔ کیونکہ ہماری بیگم صاحبہ کو ٹرین کا سفر پسند ہے۔ نا صرف سفر پسند ہے بلکہ انہیں ٹرین میں نیند بھی آرام سے آ جاتی ہے۔ لہذا ہم پھر سواری اپنے سامان کی خود حفاظت کرے والی تحریر پر عمل کرتے ہوئے سیٹ پر بیٹھ تھیلوں پر پاوں پھیلائے گوگل صاحب کی مدد سے دنیاوں کی سیر کو نکل جاتے ہیں۔ چھٹی منا کہ ہم بھی کراچی کو نکلے تو ہماری سامنے کی نشستوں پر دو بزرگ براجمان تھے۔

ایک صاحب نے شلوار قمیض پر واسکٹ چڑھا رکھی تھی اور دوسرے نے کوٹ پہنا تھا۔ ہم سلام کر کہ بیٹھ گئے اور صاحبان شاید پہلے سے ہی کوئی موضوع لئے مباحثے میں مشغول تھے۔ ہماری آمد پہ ہی شاید انہوں نے تھوڑا سا وقفہ کیا تھا جسے زیادہ طول دینا انہوں نے مناسب نہ سمجھا۔ ہم نے اپنے تھیلے نشستوں تلے دبائے اور تکیہ چادر نکال کہ بیٹھ گئے۔ جیب میں ذرا ہلچل محسوس ہوئی، ہاتھ ڈالا تو کسی چور اچکے کی نشاندہی نہ ہوئی دراصل موبائل وائبریٹ ہو رہا تھا۔ اسکرین پر ہماری ساس صاحبہ کا نمبر تھا۔ ہم نے اپنی خیریت سے روانگی سے تفصیلات بتائیں اور اپنے ہم سفر صاحبان کی جانب متوجہ ہوئے۔ تھوڑی دیر میں مدعا پتا چلا۔ موضوع بحث یہ تھا کہ سرکاری نوکری بہتر ہے یا غیر سرکاری نوکری، دونوں ایک دوسرے کو اپنی اپنی دلیلیں دے رہے تھے۔

غیر سرکاری ملازم : جناب ہمیں ادارے کی جانب سے ہر پانچ سال بعد نئے ماڈل کی گاڑی تبدیل کر کہ دی جاتی ہے۔

سرکاری ملازم : جناب ہماری پرانی گاڑی کیلئے ماہانہ ملنے والے پٹرول سے گھر کی تین نئی گاڑیاں چلتی ہیں۔

غیر سرکاری ملازم : ہمارے ادارے میں سالانہ بتیس چھٹیاں ملتی ہیں۔

سرکاری ملازم : ہم سال میں بتیس دن کام کریں تو بھی پورے سال کی پگار ملتی ہے۔

غیر سرکاری ملازم : ہمارا ادارہ دن میں دو بار اسٹاف کو چائے پلاتا ہے۔

سرکاری ملازم : ہمیں چائے پانی اتنا ملتا ہے کہ سوئس اکاؤنٹ کھولنے پڑتے ہیں۔

غیر سرکاری ملازم : ہمیں ہفتے میں دو دن چھٹی ہوتی ہے

سرکاری ملازم : ہم دن میں دو بار آفس کا چکر لگاتے ہیں وہ بھی ان منحوس انگوٹھا چھاپ مشینوں کی وجہ سے۔

ان کی گفتگو سن کر مجھے پرانی بات یاد آ گئی جب ایک مجلس میں ایک شخص نے کہا تھا کہ ہم وہ قوم ہیں جہاں لوگ سرکاری نوکری اس لئے کرتے ہیں کہ کام بھی نہیں کرنا پڑتا، پیسے بھی ملتے ہیں اور نوکری بھی پکی، شاید یہی وجہ ہے کہ ہم محنتی لوگوں سے پیچھے رہ گئے۔

تحریر: اصغر گلکالہ

متعلقہ خبریں