سعودی عرب نے 9 سالہ مرتضٰی قریری کو موت کی سزا سنادی

سعودی عرب: گیارہ سال کی عمرمیں مظاہرہ کرنے والے بچے کو سعودی عرب میں موت کی سزا کا سامنا ہے۔ ایمنیسٹی انٹرنیشل سزا پرعمل درآمد کے خلاف میدان میں آگیا۔

حکومت مخالف احتجاج بچے کو مہنگا پڑگیا، سعودی عرب میں بچے کو پھانسی دینے کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی میدان میں آگئی ہیں۔ سعودی عرب میں قتل کیے جانے کے منتظر اٹھارہ سال کے مرتضیٰ قریری پردوہزارگیارہ میں عرب انقلاب کے دوران سائیکل ریلی کی قیادت کا الزام ہے۔

اس ریلی میں تیس بچوں نے اپنےبڑوں پر مظالم کے خلاف صرف آگاہی مہم کے لیے سڑکوں پر مارچ کیا تھا. سی این این نے اس ظلم کے خلاف خصوصی رپورٹ میں کہا ہے کہ جس وقت مرتضیٰ نے ریلی کی قیادت کی اس کی عمر نو سال تھی۔ اس ریلی کا مقصد حکومت مخالف مظاہرہ قطعاً نہیں تھا۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں اقلیتی طبقے پر سعودی حکومت اسی طرح ظلم وستم کرتی آئی ہے۔ رواں سال سعودی عرب میں سینتیس ایسے افراد کوموت کی سزا دی گئی جن کے بارے میں عالمی انسانی حقوق کے اداروں نے بھی سخت احتجاج کیا تھا۔ ان کے جعلی ٹرائل کیے گئے اور وکیل کی خدمات بھی حاصل کرنے نہیں دی گئیں۔

عالم دین شیخ نمر کی شہادت سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خراب صورت حال کی واضح مثال ہے۔ انھیں بھی حکومت مخالف اظہار خیال کرنے پرسزائے موت دی گئی۔ اب ایمنسٹی انٹرنیشنل سعودی کم سن بچے کی موت کے سزا کے خلاف سخت مؤقف کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سعودی حکام سے کہا ہےکہ فورا بچےکی موت کی سزا پرعمل درآمد روکا جائے۔

مرتضیٰ قریری کوکم سنی میں سخت قیدوبند کی سزادی جارہی ہے، مرتضیٰ تین سال سے قید تنہائی کی سزا بھگت رہا ہے۔ اگست دوہزاراٹھارہ سےوکیل کی خدمات حاصل نہیں اور نہ ہی والدین سے اسے ملنے دیا جارہا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے مرتضیٰ پر مظاہرے کی قیادت کا الزام جھوٹا ہے، نو سال کی عمر میں مظاہرے میں شرکت کرنے والے بچے پر کسی قسم کا قانون لاگو نہیں ہوتا۔

اگر سعودی حکومت عدالتی کارروائی چاہتی بھی ہے تو اس کی سعودی قانون کے مطابق سزا کم ازکم موت نہیں ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سعودی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ یہ مقدمہ جوینائل کورٹ منقتل کرکے جلدازجلد مرتضیٰ کو قید سے رہائی دے۔