سائنسی دنیا کا تاریخی دن، بلیک ہول کی پہلی تصویر جاری

برسلز: سائنسی دنیا کا تریخی دن، سائنسدان بلیک ہول کی پہلی تصویر حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

ماہرین فلکیات نےبلیک ہول کی پہلی مرتبہ تصویر لی ہے جو ایک دوردراز کہکشاں میں موجود ہے۔ یہ ایک بہت بڑابلیک ہول ہے جس کی لمبائی چارسوارب کلومیٹرہے۔

 بلیک ہول کاحجم زمین سے 30 لاکھ  گنا بڑا ہے۔ سائنس دان اسےایک مونسٹر جیسا قرار دے رہے ہیں۔ یہ بلیک ہول دنیا سے 50 کروڑکھرب کلومیٹرکی دوری پر واقع ہے۔

اس کی تصویر دنیا کے مختلف حصوں میں لگی۔ اور8 ریڈیوٹیلی اسکوپ کوایک جگہ منسلک کرکے ہماری پوری دنیاکی جسمامت جتنی ورچوئل ٹیلی اسکوپ بنائی گئی تو26 ہزاری نورسال دوراس بلیک ہول کی تصویرلی جاسکی۔

بلیک ہول کی تصویر لینے کے لئے 200 سائنس دانوں کی ٹیم بنائی گئی جس میں کمپیوٹر سائنٹسٹ کیٹی بومین بھی شامل تھیں۔ جنہوں نے ایلگوریتھم کے ذریعے بلیک ہول کی تصویر لینا ممکن ہوا۔

اس بلیک ہول کی کمیت (ماس) ہمارے سورج سے ساڑھے چھ ارب گنا بڑی ہے جو ہماری زمین سے5 کروڑ پچاس لاکھ نوری سال (لائٹ ایئر) کے فاصلے پر واقع ہے۔

ماہرین نے بلیک ہول کی تصویر کے بارے میں بتایا ہے کہ اسے بغور دیکھا جائے تو یہ کسی گول کڑے کی طرح دکھائی دیتا ہے۔

لیکن اس کا نچلا حصہ قدرے روشن اور موٹا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یاتو کو یا روشن مادہ بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن کے نزدیک گھوم رہا، یا اندر خود بلیک ہول محوگردش ہے یا پھر یہ دونوں چیزیں ہی گھڑی وار سمت میں گھوم رہی ہیں۔

ای ٹی ایچ کے سربراہ ڈاکٹر شیپ ڈولیمن نے کہا کہ مادہ، گیس، پلازمہ اور دیگر اشیا بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن میں گرتے وقت انتہائی گرم ہوکر بھڑک اٹھتی ہے جبکہ ماہرین نے اسے آتشیں دائرہ قرار دیا ہے۔

بلیک ہول کی پہلی تصویر ملنا سائنسی دنیا کا تاریخی دن ہے اور بلیک ہول کو دیکھنا ’ایونٹ ہورائزن ٹیلیسکوپ‘ (ای ایچ ٹی) نیٹ ورک کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔