جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبریں

اسکاٹ لینڈ کو برطانیہ سے علیحدگی کیلئے ریفرنڈم کرانے سے روک دیا گیا

برطانیہ سے علیحدگی

عدالت نے متفقہ طور پر اسکاٹش نیشنل پارٹی کی جانب سے برطانیہ سے علیحدگی کیلئے ملک بھر میں ووٹنگ کرانے کی درخواست کو مسترد کردیا۔

برطانیہ کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ اسکاٹ لینڈ کی حکومت یکطرفہ طور پر برطانیہ سے علیحدگی اختیار کرنے کے بارے میں دوسرا ریفرنڈم نہیں کروا سکتی، کیونکہ اسے برطانیہ کی پارلیمنٹ کی منظوری حاصل نہیں ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ قانونی طور پر منعقد ہونے والے ریفرنڈم کے یونین اور برطانیہ کی پارلیمنٹ کے حوالے سے اہم سیاسی نتائج ہوں گے۔ یہ یا تو یونین اور برطانیہ کی پارلیمنٹ کی اسکاٹ لینڈ پر خودمختاری کے جمہوری جواز کو مضبوط کرے گا یا پھر کمزور کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں : آسٹریلیا میں برطانیہ کی بادشاہت سے نکلنے کیلئے ریفرنڈم کرانے کا امکان

لیکن اس فیصلے سے آزادی پر ہونے والی گرما گرم بحث کو روکنے کا امکان نہیں ہے، جو ایک دہائی سے برطانوی سیاست پر چھائی ہوئی ہے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سنک نے عدالت کے فیصلے کو آزادی کی بحث سے آگے بڑھنے کا موقع قرار دیا۔ انہوں نے پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ اسکاٹ لینڈ کے لوگ چاہتے ہیں کہ ہم ان بڑے چیلنجز کو حل کرنے کے لیے کام کریں، جن کا ہمیں اجتماعی طور پر سامنا ہے، چاہے وہ معیشت ہو یا درحقیقت یوکرین کی حمایت ہو۔

اسکاٹ لینڈ نے آخری بار 2014 میں ویسٹ منسٹر کی منظوری کے ساتھ اس مسئلے پر ووٹنگ کروائی تھی، مگر وہ کامیاب نہ ہوئے۔

واضح رہے کہ انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ 1707 سے ایک سیاسی اتحاد میں شامل ہوئے ہیں، لیکن بہت سے اسکاٹ باشندے طویل عرصے سے اس بات پر برسرپیکار ہیں کہ وہ یک طرفہ تعلقات کو انگلینڈ کا غلبہ سمجھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں