جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

آئی ایم ایف شرائط مانتے ہیں تو سیکیورٹی متاثر ہوتی ہے : وزیراعظم

آئی ایم ایف شرائط

اسلام آباد : وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ملک کو مجبوری کی حالت میں آئی ایم ایف جانا پڑتا ہے، آئی ایم ایف شرائط مانتے ہیں تو سیکیورٹی متاثر ہوتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے قومی سلامتی پالیسی کے عوامی ورژن کا اجراء کردیا۔ تقریب میں سفارتکار اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت اعلیٰ سول و فوجی حکام بھی شریک تھے۔

وزیراعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معید یوسف اور نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ پالیسی میں نیشنل سیکیورٹی کو صحیح طور پر واضح کیا گیا ہے۔ ملک کا دفاع کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز نے قربانیاں دیں۔ اپنی سیکیورٹی کا دفاع نہ کرنے والے مسلم ممالک کو دیکھ سکتے ہیں۔ ہمارے پاس ڈسپلن اور تربیت یافتہ فوج ہے۔ بڑی محنت کے ساتھ نیشنل سیکیورٹی پالیسی کو تیار کیا گیا ہے۔ نیشنل سیکیورٹی پالیسی سے قوم کا قبلہ درست کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کی کثیر الجہتی سمتیں دی گئی ہیں۔ آئی ایم ایف شرائط مانتے ہیں تو سیکیورٹی متاثر ہوتی ہے۔ ملک کو مجبوری کی حالت میں آئی ایم ایف جانا پڑتا ہے۔ آئی ایم ایف شرائط ماننے کی وجہ سے لوگوں پر بوجھ ڈالنا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اپوزیشن کے کرتوتوں کی وجہ سے ہمیں آئی ایم ایف جانا پڑا: محمود خان

وزیر اعظم نے کہا کہ تعلیمی نظام ہی قوموں کو بناتا ہے۔ ہر فلاحی ریاست اپنے کمزور طبقے کی ذمہ داری لیتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم کے 3 نظام چل رہے ہیں، جس کے باعث بہت بڑے منفی نتائج کا سامنا ہے۔ پہلی بار ملک میں 5ویں جماعت تک یکساں تعلیمی نصاب لائے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ قانون پر عملدرآمد پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ کوئی بھی ملک قانون پر عملدرآمد کے بغیر خوشحال نہیں ہوسکتا۔ قانون پر عملدرآمد نہیں ہوتا تو معاشرے میں غربت ہوتی ہے۔ رسولؐ ریاست مدینہ میں قانون کی پاسداری لے کر آئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ قانون کی بالادستی کی بدولت سیاحت میں اوپر چلا گیا۔ ہر ملک میں ریگولیٹر ہوتے ہیں جو عوامی مفاد میں کام کرتے ہیں۔ تمام ریگولیٹرز کو بلا کر بات کی انہیں صورتحال سے آگاہ کیا۔ ریگولیٹرز کو کارٹیلز نے کام کرنے سے روک دیا۔ کبھی بھی طاقتور کو قانون کے نیچے لانے کی کوشش نہیں کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں سرمایہ کاری کے اتنے مواقع ہیں پوری دنیا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ بلوچستان کی ترقی پر کام کرنا قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں