جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

پاکستان پوسٹ میں 118 ارب روپے کی سرمایہ کاری منصوبے پر ایک بار پھر سنگین سوالات

پاکستان پوسٹ میں

اسلام آباد : ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے پاکستان پوسٹ میں سرمایہ کاری منصوبے پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کردیئے۔

وزارت مواصلات کے ذیلی ادارے پاکستان پوسٹ کے 118 ارب روپے کی سرمایہ کاری منصوبے پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ پاکستان پوسٹ کے نجی بینک کے ساتھ ڈیجیٹائزیشن معاہدے پر قانونی انتظامی نقائص کی نشاندہی ہوئی ہے۔

پاکستان پوسٹ کو لکھے گئے ایک اور خط میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ نجی بینک کے ساتھ پاکستان پوسٹ کا معاہدہ قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ یہ تاثر غلط ہے کہ نجی بینک کے ساتھ معاہدے میں سرکاری فنڈز کا تعلق نہیں۔ پپرا قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے معاہدہ کیا گیا۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے پاکستان پوسٹ اور نجی بینک کے معاہدے پر سنگین اعتراض اٹھادیا۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق کیا کوئی سرکاری ادارہ کسی نجی ادارے کا سپر ایجنٹ بن سکتا ہے؟ پاکستان پوسٹ کی املاک، نام اور ساکھ کیسے نجی ادارہ استعمال کرسکتا ہے؟

یہ بھی پڑھیں : ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل : پاکستان میں بدعنوانی کے رجحان میں اضافہ ہوا

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان پوسٹ کا نجی بینک کے ساتھ معاہدہ سنگین انتظامی خامیوں کے سبب بڑا میگا اسکینڈل بن سکتا ہے۔ وزارت قانون نے ایک ہی دن میں پاکستان پوسٹ اور نجی بینک کے ساتھ معاہدے کی دستاویز کی توثیق کی۔ وزارت قانون کے مطابق انہوں نے صرف معاہدے کے متن کی توثیق کی۔

وزارت قانون نے نجی بینک کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی دستاویز کے لیے لکھا کہ پاکستان پوسٹ ضروری قانونی اقدامات پورے کرے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے پاکستان پوسٹ کے نجی بینک کے ساتھ معاہدے پر سنگین اعتراضات کی نشاندہی کی ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پاکستان پوسٹ پپیرا قواعد کی مختلف شقوں پر عمل درآمد کرے۔

متعلقہ خبریں