جی ٹی وی نیٹ ورک
انٹرٹینمنٹ

کورونا کے مریض کو ’چھپانے‘ پر ماریہ بی کے شوہر گرفتار

ماریہ بی
پاکستان کے لاہور کی پولیس نے مبینہ طور پر کورونا کے مریض کو سرکاری اداروں سے چھپا کر آبائی گاوں بھجوانے پر کپڑوں کے مشہور برانڈ ‘ماریہ بی’ کے مالک طاہر سعید کو گرفتار کر لیا ہے۔

لاہور کے تھانہ نشتر کالونی میں درج ایف آئی آر کے مطابق ‘طاہر سعید جن کا گھر سوئی گیس سوسائٹی میں واقع ہے،

اپنے باورچی عمر فاروق کا کورونا ٹیسٹ کروایا جو مثبت آیا جس کے بعد انہوں نے عمر فاروق کو ان کے آبائی گاوں وہاڑی بھیج دیا۔

طاہر سعید نے معلومات کو قصداً چھپایا اور مزید کئی افراد کی جانوں کو خطرے میں ڈالا’۔

ایف آئی آر کے مطابق طاہر سعید تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت حکم عدولی اور دفعہ 270 کے تحت

جان بوجھ کر بیماری پھیلانے کا سبب بنے ہیں جس پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ماریہ بٹ نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے شوہر کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ‘آدھی رات کو پولیس نے ہمارے گھر چھاپہ مارا اور میرے شوہر کو گرفتار کر لیا۔

ہمارا پورا خاندان اس وقت خطرے سے دوچار ہے ہمارے ٹیسٹ بھی مثبت آنے کا خدشہ ہے۔’

اپنی ویڈیو میں انہوں نے وزیراعظم سے مدد کی اپیل بھی کی ہے۔

طاہر سعید کی گرفتاری کے بعد لاہور پولیس نے ایک پریس ریلیز جاری کی ہے جس کے مطابق ‘سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید کی ہدایت پر

پولیس نے کپڑوں کے مشہور برانڈ کے مالک طاہر سعید کو اپنے گھریلو ملازم کو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر ان کے گاوں ضلع وہاڑی بھجوانے پر گرفتار کر لیا ہے۔

ہمایوں سعید اور عدنان صدیقی کی کورونا ٹیسٹ رپورٹس آگئی، دوبارہ قرنطینہ میں رہنے کا فیصلہ

نجی لیبارٹری سے گھریلو ملازم عمر فاروق میں کورونا وائرس پازیٹیو کی اطلاع سرکاری اداروں کو دینے کی بجائے مریض کو اس کے گاوں بھجوا دیا گیا تھا۔

کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے تدراک کے لیے مریض کو قرنطینہ سنٹر میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

پولیس نے ماریہ بی کی جانب سے ویڈیو پیغام جاری کرنے کے عمل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ترجمان لاہور پولیس کے مطابق ‘سینکڑوں لوگوں کی جان خطرے میں ڈال کر تنقید کرنا افسوسناک ہے،

طاہر سعید کے مجرمانہ فعل کے بعد پورے گاﺅں کو قرنطینہ میں رکھنا پڑے گا۔

لاہور پولیس نے دفعہ 144 اور پولیس آرڈر کے تحت اپنی ذمہ داری پوری کی۔’

ترجمان لاہور پولیس کے مطابق اس وقت عمر فاروق کے سارے خاندان کے افراد کو آئسولیشن میں رکھا گیا ہے

اور تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ وہ اس دوران کن کن افراد سے ملے تھے۔

 

متعلقہ خبریں