جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبریں

شریف فیملی منی لانڈرنگ کیس : عدالت کا سپلیمنٹری چالان دوبارہ جمع کرانے کا حکم

سپلیمنٹری چالان دوبارہ

لاہور : عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز منی لانڈرنگ کیس میں دوبارہ سپلیمنٹری چالان جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔

لاہور کی ایف آئی اے کورٹ میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر 16 ملزمان کے خلاف 25 ارب کی منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی۔ اسپیشل جج سینٹرل اعجاز حسن اعوان نے کیس پر سماعت کی۔ عدالت میں ایف آئی اے تفتیشی افسر نے شریک ملزم غلام شبر کی رپورٹ پیش کرنی تھی۔

سماعت کے موقع پر عدالت نے تفتیشی افسر پر اظہار برہمی کیا۔ ریمارکس دیئے کہ آپ کی رپورٹ مکمل کیوں نہیں ہے؟ کیوں نہ آپ کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا جائے۔ کورٹ نے ہر چیز کو بغور دیکھنا ہوتا ہے۔ انھوں نے گیند ہماری کورٹ میں پھینک دی ہے اب ہم نے ہی اسے کھیلنا ہے۔

عدالت نے ایف آئی اے سے دوبارہ سپلیمنٹری چالان جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ چالان کی درستگی کے حوالے سے رپورٹ طلب کر لی۔ عدالت نے شریک ملزمان کے ایڈریس اور ولدیت درست نہ لکھنے کی بناء پر چالان دوبارہ طلب کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ’’لاکھوں‘‘ لوگ کہاں گئے؟ پی ٹی آئی پٹ گئی، ڈھیٹ بن کر کھڑا ہے یہ کپتان : حمزہ شہباز

آج کی سماعت میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز بھی پیش ہوئے۔ وزیراعظم نے عدالت میں حاضری لگانے کے بعد بیٹھنے کی اجازت طلب کی۔

لیگی وکیل امجد پرویز نے کہا کہ میں آج اردو میں دلائل دونگا کیونکہ میڈیا اس کو درست انداز سے رپورٹ کر سکے۔ دس سالہ طور پر جو اکاؤنٹ محیط ہیں انھوں نے ایک پیسہ بھی اس میں سے نہیں لیا ہے۔ صفحہ مثل پر جو چیز بیان کی گئی ہے میں صرف وہی حقائق بیان کر رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جو حمزہ شہباز شریف ہیں، ان کا کیس بھی اس سے بہت ملتا جلتا ہے۔ گزشتہ حکومت تھی کا مطمع نظر تھا کہ ان کو جھوٹے مقدمات میں رکھا جائے۔ انہیں چاہے ایک کیس میں الجھایا جائے یا دس مقدمات میں الجھایا جائے۔ نیب میں بھی اسی سے ملتا جلتا کیس چل رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  گزشتہ حکومت نے شہباز شریف ان کے بیٹے، بیٹی اور داماد پر جھوٹے کیسز بنوائے۔ عدالت میں گڈ گائے جیسے الفاظ استعمال کیے گئے۔ اس وقت کی حکومت نے ڈی جی نیب کو کہ کر میڈیا پر ان کے خلاف پروگرام کرائے۔

متعلقہ خبریں