شہریار آفریدی کو قوم سے معافی مانگنی چاہیئے : رانا ثنااللہ

شہریار آفریدی

لاہور: رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ سیف سٹی کیمروں میرے موقف کو سچ اور حکومت کے موقف کو غلط ثابت کیا ہے۔ اب شہریار آفریدی کو قوم سے معافی مانگنی چاہیئے۔

رانا ثنا اللہ نے انسداد منشیات عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں پارٹی ڈسپلن کا تابع ہوں، پارٹی کے فیصلے کے ساتھ کھڑا ہوں۔ آزادی مارچ کے حوالے سے ہمارے قائد جو فیصلہ کریں گے وہ قبول ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک میری معلومات ہیں، پارٹی نے آزادی مارچ میں بھرپور شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو ہر عہدہ دار اور ہر کارکن کو ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے۔ پنجاب سے پارٹی کا ہر کارکن و عہدیدار پارٹی کے حکم کے مطابق آزادی مارچ میں بھرپور شرکت کرے۔

یہ بھی پڑھیں : رانا ثناءاللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 9 روز کی توسیع

اپنے کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس والوں نے موٹر وے پر مجھ سے کوئی برآمدگی نہیں کی ہے، انہوں نے تھانے پہنچ کر ساری جعلی کارروائی کی۔ ایف آئی آر کے مطابق 3 بج کر 25 منٹ پر مجھے روکا گیا اور وہاں مزاحمت ہوئی، اسلحہ برآمد کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں نے میرے موقف کو سچ اور حکومت کے موقف کو غلط ثابت کیا ہے۔ اب شہریار آفریدی کو قوم سے معافی مانگنی چاہیئے۔ ورنہ اسے ان دنیا میں بھی لعنت کا سامنا کرنا پڑے گا اور مرتے دم کلمہ نصیب نہیں ہو گا۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اے این ایف میں تعینات پاک فوج کے افسروں نے اپنے ادارے کے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہے۔ پاک فوج کے وہ افسران موجودہ حکومت کے بدترین اور گھٹیا ترین سیاسی انتقام کا حصہ بنے ہیں۔ میں نے آرمی چیف سے پہلے بھی مطالبہ کیا تھا کہ ان افسروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کن لوگوں کے کہنے پر یہ کارروائی کی گئی؟ میں نے آج تک ہیروئن دیکھی تک نہیں اور نہ کبھی کسی نے میرے سامنے استعمال کی ہے۔ خود یہ لوگ وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر آئس سے لے کر ہیروئن تک سب نشے کرتے ہیں۔