جی ٹی وی نیٹ ورک
انٹرٹینمنٹ

فلم پالیسی بن چکی، مارچ تک نافذ کردیں گے، وفاقی وزیر اطلاعات

فلم پالیسی

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ حکومت نے فلم پالیسی تیار کرلی تاہم اس پر مزید غور و فکر کیا جا رہا ہے اور کوشش ہے کہ آئندہ سال مارچ تک اسے نافذ کردیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے رواں برس ستمبر میں متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو فلم پالیسی تیار کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے رواں برس ستمبر میں فلم انڈسٹری کی بحالی کے لیے نئے اقدامات اٹھانے کی منظوری دیتے ہوئے متعلقہ اداروں اور حکام کو جلد پالیسی بنانے کی ہدایات کی تھیں۔

نئی پالیسی کے تحت فلم اور سنیما انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کو مراعات دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور ساتھ ہی معیاری فلمیں بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تھا۔

اجلاس میں وزیر اعظم کو آگاہی دی گئی تھی کہ اس وقت ملک میں 70 سنیما اور 150 ملٹی پلیکس اسکرینز ہیں جس پر وزیر اعظم نے کہا کہ عام آدمی جدید ملٹی پلیکس اسکرینز پر فلمیں دیکھنے کا متحمل نہیں ہے۔

کورونا وباء میں خدمات پر علی ظفر کے لیے شانِ پاکستان کا ایوارڈ

ساتھ ہی وزیر اعظم نے قابل استطاعت لاگت کے ساتھ فلم دیکھنے کے لیے ملک بھر میں سنگل اسکرین سنیما قائم کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا تھا۔

اور اب وزیر اطلاعات نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم کی ہدایات کے بعد فلم پالیسی تیار کی جا چکی ہے، جس پر مزید غور و فکر جاری ہے اور کوشش کرکے اسے مارچ 2021 تک نافذ کردیا جائے گا۔

وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بتایا کہ چوں کہ پالیسی ہر روز نہیں بنائی جاتی، اس لیے تیار کی گئی پالیسی کو مزید بہتر کرنے کا کام جاری ہے اور کوشش کرکے اسے مارچ تک نافذ کردیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں فلم انڈسٹری کو صنعت کا درجہ 28 سال قبل 1992 میں ہی دیا گیا تھا مگر افسوس اس پر عمل نہیں ہوسکا اور فلمی صنعت کو اہمیت نہیں دی گئی۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ حالیہ حکومت وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات کے عین مطابق فلم سازوں اور سینما مالکان کی مالی معاونت سے متعلق بھی اقدامات اٹھائے گی تاہم ہر کام حکومت نہیں کر سکتی، اس ضمن میں انڈسٹری کے لوگوں کو خود بھی آگے آنا پڑے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ حکومت فلم اور سینما انڈسٹری کے لوگوں کو ٹیکس سے مکمل استثنیٰ نہیں دے سکتی، البتہ انہیں ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں