جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

شیریں مزاری کیس : پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف مزید کارروائی توہین عدالت ہوگی : عدالت

کارروائی توہین عدالت

اسلام آباد : چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ عدالت کے گزشتہ آرڈر کے بعد کارروائی توہین عدالت ہو گی، اٹارنی جنرل نے دو ہفتوں کی مہلت طلب کرلی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایمان مزاری کی درخواست پر سماعت کی۔

شیریں مزاری، پٹیشنر ایمان مزاری اور فواد چوہدری سمیت دیگر وکلاء عدالت میں پیش ہوئے۔ وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت میں موجود رہے۔

اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کمیشن کی تشکیل کے لئے وقت دیا جائے۔ فیصل چوہدری نے کہا کہ رات کو اس عدالت کی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

ایڈوکیٹ جنرل نے فیصل چوہدری سے کہا کہ تمام کیسز کو ایک ساتھ نہ کریں، جس پر فیصل چوہدری  نے کہا کہ آپ ایک عہدے پر آئے ہیں تھوڑا صبر کرلیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹیرینز کی عزت ان کے حلقے اور پارلیمان کی وجہ سے کی جاتی ہے۔ عدالت کو بتایا گیا ممبر اسمبلی علی وزیر سال سے زیادہ جیل میں رہے ہیں۔ جب حکومت میں ہوتے ہیں تو آئین کا کوئی خیال نہیں جب اپوزیشن میں آتے ہیں تو عدالتوں میں آجاتے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ اس عدالت کو اور بھی بہت سارے کام ہیں، ہر ادارے کا اپنا کام ہے۔ یہ عدالت پارلیمنٹ کو حکم نہیں دے سکتی ہے۔ جب منتخب نمائندے آپس میں بیٹھ کر بات نہیں کریں گے تو آئینی ادارے کام کیسے کریں گے؟ یہ بتائیں یہ عدالت کیا کرے، یہاں سب تگڑے ہوتے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ جبری طور پر جو لاپتہ ہوئے تھے آج تک بازیاب کیوں نہ ہوسکے؟ عدالت فیصلہ دیتی ہے مگر کسی فیصلے پر ایگزیکٹو نے عمل درآمد نہیں کیا ہے۔ اس طرح کی باتوں سے جمہوریت غیر فعال ہو جاتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تمام ادارے کام کریں تو ایسی پٹیشنز عدالتوں میں نہ آئیں۔ سیاسی لڑائیوں میں یہ بھول جاتے ہیں کہ اپنے حلقہ کے عوام کو جوابدہ ہیں۔ یہ حکومت کا کام ہے، یہ بھی سوشل میڈیا پر طعنے ہی دیتے ہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اب دیکھیں ناں کہ شیریں مزاری کو اس عدالت کے دائرہ اختیار سے غیر قانونی طور پر اٹھایا گیا ہے۔ یہ کورٹ یہی ججمنٹ دے سکتی ہے ناں کہ ان کو غیر قانونی طور پر اٹھایا گیا۔

عدالت نے کہا کہ شیریں مزاری واحد رکن قومی اسمبلی نہیں جن کے ساتھ یہ سب کچھ ہوا ہے۔ لوگ کہتے تھے آئین کیا ہے؟ کاغذ کا پرزہ ہے، یہی بنا دیا ہے۔ پارلیمنٹیرینز کا احترام اس لیے ہے کہ وہ حلقے کے عوام کی آواز ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ یہ کورٹ ریاست کی جانب سے اختیار کا مسلسل غلط استعمال دیکھ رہی ہے۔ ہر ریاستی ادارے کو اب پرو ایکٹو رول ادا کرنا چاہیئے۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے کہا کہ یہ کہتے ہیں کہ پورا ملک بلاک کر دیں گے، حکومت کو نہیں چلنے دیں گے۔ ایک بندہ آئی ایم ایف سے ٹاک کرنے گیا ہے اور یہ کہتے ہیں کہ مذاکرات ناکام ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیں : گرفتار کرنے والوں نے کہا انہیں رانا ثناءاللہ اور شہباز شریف کی ہدایت ہے: شیریں مزاری

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے مزید کہا کہ حکومت بھی اپوزیشن کے تعاون سے چلتی ہے، یہ آئیں اور پارلیمنٹ میں بیٹھیں۔  شیریں مزاری کے خلاف کیس بزدار حکومت میں بنایا گیا تھا۔ شیریں مزاری کو ان کا فون واپس کر دیا گیا ہے۔

فیصل چوہدری نے کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان میں انتقامی کارروائی جاری ہے۔ اگر شیریں مزاری کی کسٹڈی کی ضرورت ہو تو عدالت کی اجازت لی جائے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالت کے گزشتہ آرڈر کے بعد ایسی کارروائی توہین عدالت ہو گی۔ اس کورٹ نے اس آرڈر میں بہت ساری باتیں لکھی ہیں، یہ وفاقی حکومت کے لیے ٹیسٹ کیس ہے۔

چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت دی کہ  آپ اس آرڈر کو دوبارہ جا کر غور سے پڑھیں۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے دو ہفتوں کا وقت دیا جائے، جس پر فیصل چوہدری نے کہا کہ دو ہفتے؟ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ ہم کورٹ سے استدعا کر رہے ہیں، آپ کورٹ کو ڈکٹیٹ نہ کریں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں ایک ہفتے کا وقت دے دیا جائے، جس پر عدالت نے شیریں مزاری کیس کی مزید سماعت 30 مئی تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ خبریں