جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

سندھ میں گندم کی امدادی قیمت دو ہزار روپے فی چالیس کلو گرام مقرر

فی چالیس کلو گرام

کراچی : سندھ کابینہ نے گندم کی امدادی قیمت دو ہزار روپے فی چالیس کلو گرام اور گنے کی امدادی قیمت 202 روپے فی من مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں کابینہ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں گندم کی خریداری کی قیمت مقرر کرنے کے ایجنڈہ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سیکریٹری زراعت رحیم سومرو نے کابینہ کو آگاہی دی کہ پنجاب اور بلوچستان حکومتوں نے 1700 روپے فی 40 کلوگرام کی تجویز دی ہے، 16-2015 سے 19-2018 تک سپورٹ پرائس 1300 فی 40 کلوگرام تھی۔ 20-2019 میں 1400 روپے فی 40 کلوگرام کی گئی تھی۔

وزیر خوراک ہری رام نے کہا کہ درآمد شدہ گندم ہم 5000 روپے فی 40 کلوگرام پر لیتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم درآمد شدہ گندم پر غیر ملکی زر مبادلہ خرچ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : حکومت گندم اور چینی کی وافر دستیابی کو یقینی بنائے گی: وزیراعظم

سیکریٹری خوراک نے بتایا کہ درآمد شدہ گندم کا معیار ہماری اپنی گندم کے معیار سے کم ہے۔ سال 8-2007 میں سپورٹ پرائس 625 فی 40 کلوگرام تھی۔ سندھ حکومت نے 9-2008 میں سپورٹ پرائس بڑھا کے 950 فی من مقرر کی۔ نتیجے میں گندم زیادہ اگائی گئی اور سندھ میں بہترین فصل ہوئی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم باہر کی کم معیار والی گندم پر زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ مقامی آبادگاروں کو ہم اچھی رقم دینے کے لئے تیار نہیں۔

تمام وزراء نے کہا کہ ہمیں گندم کی سپورٹ پرائس بڑھانی ہوگی۔ اگر گندم کی قیمت نہیں بڑھائی گئی تو اگلے سال پھر ہمیں گندم درآمد کرنی پڑے گی۔ کابینہ نے دو ہزار روپے فی چالیس کلو گرام کی سپورٹ پرائس مقرر کردی۔

کابینہ میں گنے کی کم سے کم پرائس مقرر کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پنجاب حکومت نے 200 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کی ہے۔ سندھ حکومت نے 202 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کرنے کی منظوری دیدی۔

متعلقہ خبریں