جی ٹی وی نیٹ ورک
پاکستان

سندھ حکومت کا جامعات میں طالبات کے خلاف ہراسانی کے واقعات پر تشویش کا اظہار

طالبات کے خلاف ہراسانی

کراچی : اسماعیل راہو نے جامعات میں طالبات کے خلاف ہراسانی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ سعید غنی کا کہنا ہے کہ کوئی ایسا پولیس افسر نہیں جو مکمل امن کرانے کا دعویٰ کرسکے۔

صوبائی وزیر بورڈز اور جامعات و موحولیات اسمعیل راہو نے سعید غنی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جامعات میں طالبات کے خلاف ہراسانی کے واقعات ہو رہے ہیں۔ نمرتا، نوشین کے واقعات رپورٹ ہوئے، لیاری یونی ورسٹی کا واقعہ ہوا، پروین رند اور الماس کے واقعات سامنے آئے۔

انہوں نے بتایا کہ نمرتا واقعے کی جوڈیشل انکوائری ہوئی، وزیراعلیٰ نے جوڈیشل انکوائری پر عمل درآمد کے لیے کمیٹی قائم کی۔ ڈاکٹر نوشین کے ایشو پر بھی کمیٹی بنائی اور جوڈیشل انکوائری جاری ہے۔ جب رپورٹ آئے گی تو فوری عمل درآمد ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ لیاری یونی ورسٹی واقعے میں ایم پی اے کی شکایت پر وی سی کو چھٹیوں پر بھیجا ہے، تاکہ شفاف تحقیقات ہوسکیں۔ پروین رند کے واقعے میں تحقیقات جاری ہیں، ایف آئی آر ہوچکی ہے۔

وزیر جامعات نے کہا کہ سندھ یونی ورسٹی جامشورو میں طالبہ الماس نے الزام لگایا کہ مجھے بائک سوار افراد نے ہراس کیا ہے۔ الماس کا بیان ریکارڑ ہوچکا ہے، واقعے کی سی سی ٹی وی الماس کو دکھائی گئی۔ الماس چاہیں تو ایف آئی آر درج کرا سکتی ہیں۔

اسماعیل راہو کا کہنا تھا کہ الماس نے یونی ورسٹی انتظامیہ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ہم نے ان سے کہا ہے کہ پولیس سے تحقیقات کرائیں اور اپنی پسند کے کسی بھی افسر سے تحقیقات کرائیں۔ اگر انہیں اعتماد نہیں تو ہم دیگر جامعات کے اساتذہ سے تحقیقات کرائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : ڈی این اے رپورٹ : ڈاکٹر نوشین اور نمرتا کماری کے جسم سے ایک ہی مرد کے نمونے برآمد

صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا کہ سیف سٹی پروجیکٹ اہم ہے، اس میں تعطل آیا ہے۔ اسلام آباد میں بھی سیف سٹی منصوبہ چل رہا ہے، مگر وہاں جرائم کم نہیں ہوسکے۔ یا تو سیف سٹی منصوبے میں کوئی خرابی ہے یا منصوبہ چلانے والوں میں۔ سیف سٹی پروجیکٹ میں تیزی لارہے ہیں، خدا کرے اس سے جرائم کم ہوں۔

انہوں نے کہا کہ  قانون کے خلاف ایف آٸی آر ہوگی تو حکومت واپس نہیں لے سکتی۔ علی وزیر کے خلاف مقدمہ عدالت میں ہے۔ وہاں ایک کیس پر ضمانت ہوچکی ہے،

ان کا کہنا تھا کہ کوٸی حکومت نہیں چاہتی کہ امن خراب ہو۔ وزیر اعلی سندھ کوشش کررہے ہیں امن بہتر ہو۔ آپ کو 2008 سے موازنہ کرنا چاہیٸے، اگر درست حالت نہیں تو الزام لگایا جاٸے۔ آج کوٸی دندناتا پھرے یا افسر قتل ہو یہ حالت نہیں۔ کوٸی ایسا افسر نہیں جو مکمل امن کرانے کا دعوی کرسکے۔

سعید غنی نے کہا کہ آج اطہر متین کی شہادت ہوئی۔ پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق واقعہ صبح ساڑھے آٹھ بجے ہوا۔ اطہر متین کو تین گولیاں لگی ہیں۔ پولیس کی کوشش ہے کہ قاتلوں کو جلد گرفتار کرے۔

انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ نہیں ہونا چاہیئے تھا مگر اب ہماری ذمہ داری ہے کہ قاتلوں کو گرفتار اور ان کے بچوں کے لئے کچھ کریں۔ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ ایسے واقعات روکیں۔ اسٹریٹ کرائم میں لوگوں کی جانیں جا رہی ہیں جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔

متعلقہ خبریں