حکومت سندھ کی بجٹ میں پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ کے لیئے سات ارب روپے کے اضافے کی تجویز

کراچی: حکومت سندھ نے بجٹ 20۔2019 میں پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ کے لیئے گذشتہ مالی سال کے مقابلے سات ارب روپے کے اضافے کی تجویز دے دی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد اضافے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکومت سندھ کے مالی سال 20۔2019 کے بجٹ تفصیلات کے مطابق بجٹ میں پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ کے لیئے گذشتہ مالی سال کے مقابلے سات ارب روپے کے اضافے کی تجویز دی گئی ہے، گذشتہ سال کے بجٹ میں 6۔13 ارب روپے مختص کیئے تھے، جسے اب بڑھا کر بیس ارب کردیا گیا۔

پبلک ہیلتھ کے لیئے آن گوئنگ اسکیم 58 اور نئے مالی سال میں اسی نئی اسکیم رکھی گئی ہیں، صوبے کے سترہ اضلاع میں پانی کی آلودگی چیک کرنے کی لیبارٹریوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا، عمرکوٹ، لاڑکانہ، بدین، دادو، قمبر شہداد کوٹ و دیگر اضلاع میں ٹریٹ منٹ پلانٹ لگاکر پانی کو باغات اور زراعت کے لیئے قابل استعمال بنایا جائے گا، اس منصوبے کے لیئے 0290 ملین روپے مختص کیئے گئے ہیں۔

290 ملین کی ایک اور اسکیم سے واٹر سپلائی اور آر او پلانٹس کے ذریعے پانی کے حصول سے شجر کاری اور دو ارب روپے کی لاگت اسکولوں اور اسپتالوں کے لیئے سولر آر او پلانٹ کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے جبکہ 1602 ملین کی لاگت سے رورل واٹر سپلائی اسکیم کو سولر سسٹم پر منتقل کرنے کی تجویز بھی تیار کی گئی ہے۔

محکمہ پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ کی مجموعی 494 اسکیمیں تیار کی گئی ہیں، 3ارب 70 کروڑ کی لاگت سے زرعی کینالوں اور دریا میں 196 مقامات سے شہروں کے گندے پانی کی نکاسی کو روکنے کی اسکیم بھی شروع کی جائیں گی، 165 ملین کی لاگت سے واٹر سپلائی کی 16 اسکیموں کو بحال کیا جائے گا۔