جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

سندھ کو وفاق سے حصہ نہیں مل رہا، صوبے کا قتل ہو رہا ہے : نثار کھوڑو

سندھ کو وفاق

اسلام آباد : نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ سندھ کا حصہ کاٹنے سے تم عوام سے کٹ جاؤ گے، سندھ کو وفاق سے حصہ نہیں دیا جا رہا، سیاسی قتل ہوتے ہوئے، ہم نے دیکھا تھا، اب صوبے کا قتل ہو رہا ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنماء نثار کھوڑو نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میرا اور میرے سندھ کا معاشی قتل ہو رہا ہے۔ حکومت مسلسل تین سال سے سندھ کے ساتھ کھیل کر رہی ہے۔ سندھ 70 فیصد روینیو وفاق کو دیتا ہے۔ عدالتی قتل ہو یا سرعام گولی لگے۔ عوام ساتھ دیتے ہوئے وفاداری کو ثابت کر کے آگے بڑھتے گئے۔

انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے سندھ کے معاشی قتل کی ٹھانی ہوئی ہے۔ سندھ کو وفاق کی جانب سے ملنے والا حصہ نہیں دیا جا رہا۔ دو این ایف سی ایوارڈ آنے تھے جو نہیں ملے۔ عمران خان سندھ میں آکر کہتا ہے این ایف سی ایوارڈ دیکر وفاق کنگلا ہوگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مردم شماری پر ہمارے تحفظات تھے۔ مردم شماری میں گنتی کم ہوگی تو ہمیں حصہ بھی کم ملے گا۔

سندھ میں دوسرے صوبوں سے آنے والوں کی بھی ایک تعداد ہے۔ لوگوں کو غیر قانونی طور پر پچھلی حکومتوں کی جانب سے شناختی کارڈ جاری کئے گئے۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ سیاسی قتل ہوتے ہوئے، ہم نے دیکھا تھا، اب صوبے کا قتل ہو رہا ہے۔  2017.18 میں سندھ کو 27 ارب کی ترقیاتی اسکیمیں ملی تھیں۔ رواں سال وفاقی حکومت نے سندھ کی اسکیموں کے لیے صرف 5 ارب روپے رکھے۔ سندھ کی دس ترقیاتی اسکیموں کو کم کر کے پانچ کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : اکنامک سروے میں غربت، بیروزگاری کا ذکر نہیں، دونوں میں تاریخی اضافہ ہوا : بلاول بھٹو

پیپلز پارٹی کے رہنماء کا کہنا تھا کہ 2015 میں ن لیگ کی حکومت میں این ایف سی ایوارڈ ملا، 2020 میں تحریک انصاف کی حکومت میں نہیں ملا۔ مشترکہ مفادات کونسل نے 5 فیصد مردم شماری کو رینڈم چیک کرنے کا کہا۔ سندھ نے مردم شماری پر اختلافی نوٹ لکھا۔ این ایف سی ایوارڈ میں حصہ نہیں ملے گا تو سندھ کی کیسے ترقی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وفاق کی پالیسی کو معاشی قتل کا نام دونگا۔ وفاق حکومت نے ترقیاتی بجٹ 200 ارب بڑھا کر 900 ارب کردیا گیا۔ 200 ارب ترقیاتی بجٹ بڑھانے پر سندھ کو کتنا اضافی بجٹ دیا جائے گا؟

ہم نے 17 اسکیموں کی سمری وفاقی حکومت کو بھیجی، تمام اسکیموں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایل بی او ٹی کو مستقبل کے ریفارمز کرنے کی کوشش کی۔ کے بی فور اسکیم کو بھی خاطر میں نہیں لایا گیا۔ وفاقی حکومت نے ترقیاتی بجٹ سے سندھ کا حصہ کاٹ لیا۔ سندھ کا حصہ کاٹنے سے تم عوام سے کٹ جاؤ گے۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ کی اسکیموں کو رد کرنے پر سندھ کا کیس وفاق میں لایا ہوں۔ پانی ہماری زندگی ہے، پانی پر بھی کٹوتی کی جارہی ہے۔ ارسا نے کہا منگلا اور تربیلا کو بھر لیا گیا۔

غلط وقت پر نہروں میں پانی چھوڑا جاتا ہے۔ طعنہ دیا گیا کہ کوٹلی سے آگے پانی دینا ضائع کرنے کے برابر ہوگا۔ پانی نہ جاری ہونے سے سندھ میں فصلوں کی کاشت کم ہو رہی۔ آج سندھ کے ہر ضلعے میں پانی کی قلت کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے۔

پیپلز پارٹی رہنماء کا کہنا تھا کہ این ای سی کا اجلاس سال میں دو مرتبہ ہونا ہوتا ہے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ این ای سی کے اجلاس میں کوئی مشاورت نہیں ہوئی۔ مشکل سے سندھ پبلک سروس کمیشن بنایا۔ 2018  میں جس کو بھی نوکریاں ملیں، ان سب کو نوکریوں سے نکالا گیا۔ ایف آئی اے میں جو بھی سندھ سے افسران لگائے ہوئے تھے ان سب کو نکالا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ کی اندرونی کہانی مجھے معلوم ہے۔ آنکھوں سے اندھی اور بہری حکومت بھی کچھ سن لے۔

کورونا کی امداد کے معاملے پر وفاقی حکومت کو شرم دلانا چاہتا ہوں۔ سنا ہے وفاق کو کورونا اور ویکسین کی مد میں 3 ارب ڈالر امداد ملی۔ امداد دینے والے ادارے اب امداد کے خرچ پر سوال اٹھا رہے۔ اب تک ہم صرف دس فیصد آبادی کو ویکسین لگا سکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے وفاق سے ویکسین کی خریداری کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ مفت ویکسین لے کر بھی اب تک لوگوں کو نہیں لگائی جا سکی۔

متعلقہ خبریں