جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

وفاقی بجٹ میں سندھ کو نظر انداز کیا گیا، ہمارے ساتھ زیادتی کی گئی : وزیراعلیٰ سندھ

سندھ کو نظر

کراچی : مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ کو بدنام کیوں کرتے ہیں؟ وفاقی بجٹ میں سندھ کو نظر انداز کیا گیا، ہمارے ساتھ زیادتی کی گئی۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ میں سندھ کا سربراہ ہوں، میں سندھ صوبے کی بات نہیں کرونگا تو یہ زیادتی ہوگی۔ میں جب سندھ کی بات کرتا ہوں تو انہیں غصہ کیوں آجاتا ہے؟ نہ صرف مجھے بلکہ پورے سندھ کو بدنام کیوں کرتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ کل ہم اپنا بجٹ پیش کرینگے۔ صوبائی بجٹ وفاق کے فنڈز پر منحصر ہوتا ہے۔ اکثر ٹیکسز وفاق جمع کرتا ہے۔ مجھے صرف یہ بتا دیں کہ اگر اکانومی بہتر ہورہی ہے تو ٹیکسز بڑھنے کی بجائے کم کیوں ہوگئے۔ میں فیکٹ پیش کرتا ہوں تو انہیں بُرا لگتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک گیارہ ماہ میں ہمیں پانچ سو اٹھانوے ارب روپے ملے ہیں۔ اگر آپ اوریجنل ٹارگٹ پر چلتے تو انہیں ہمیں آخری مہینے میں 144 ارب روپے دینا چاہئیں تھے۔ ٹیکسز ان کے بڑھ گئے ہیں تو پھر یہ شرح کچھ اور ہوگی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ایک صوبے سے اپ نے 544 ارب کا وعدہ کیا مگر دیا کیا؟ ہمیں کورونا وائرس کے باعث مزید اخراجات کرنا پڑے۔ این ایف سی کو گیارہ برس ہوگئے۔ این ایف سی کو لیکر یہ اٹھارویں ترمیم کو نشانہ بناتے ہیں۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ٹارگٹس پر کسی نے فوکس نہیں کیا، بس سندھ پر تنقید کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ہمیں ٹیکس وصول کرنے کے مزید مواقع دئیے جائیں۔ اس وقت ایف بی آر کی ٹیکس وصولی سترہ فیصد ہے، جبکہ سندھ ریونیو بورڈ کی 21 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے سندھ ریونیو بورڈ کی شرح ایف بی آر سے بہتر ہے۔ نئے این ایف سی کے لئے ہماری تجویز ہے کہ سیلز ٹیکس آن گڈز صوبوں کو دیا جائے۔ اگر فیکٹس میں کوئی ایک غلطی کروں تو میری نشاندہی کریں۔ میں نے اگر غلطی کی تو تسلیم کرونگا۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی بجٹ میں سندھ کو نظر انداز کیا گیا۔ میں دہراتا ہوں کہ ہمارے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔

ہمیں وہ منصوبے دئیے گئے، جس کی ضرورت نہیں تھی۔ اگر اس میں ایک چیز بھی غلط ہے تو بتائیں۔ یہ وعدے آپ نے گزشتہ برس بھی کیے تھے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 9.7 بلین کے بجٹ پچھلے سال بھی دئیے کوئی خرچ نہیں کیا۔ یہ رپیٹ ہوسکتے ہیں میں نے کہا تھا کہ اس میں کرپشن کے چانس ہیں۔ خاص طور پر ایسے منصوبے جیسے نالی یا گلی میں گٹر کا ڈھکن ڈالنا ہے۔ میرا کسی صوبے سے اختلاف نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں : وزیر اعظم نے اپوزیشن کی گاڑی کیلئے سیاسی ڈیزل کا بحران پیدا کر دیا : فواد چوہدری

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ میں وفاق سے کہتا ہوں کہ آئین پر عملدرآمد کرتے ہوئے صوبوں میں بیلینس خرچ کریں۔ میں اعتراض کرتا ہوں تو کوئی صاحب کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ آپ نے کیا بنا لیا۔

وزیراعلی سندھ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سندھ کے منصوبوں کی تفصیلات بھی شیئر کیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ سے کام نہیں ہورہا، الحمداللہ ہم کام کررہے ہیں۔ آپ نے نالوں کی صفائی کا کہا اور نالے کس سے صاف کروائے؟

یہ نالوں میں بہہ جائینگے، صرف نالوں کی باتیں ہورہی ہیں۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہماری ترجیحات کیا ہیں صوبے سے پوچھ تو لیں۔ ان کی ایک ہی ٹرمینالوجی ہے بس نالیاں اور سڑکوں کی استر کاری کرنا۔ میں نے بالکل درست اعتراض کیا تھا۔ لفاظی نہیں ہے میں فیکٹس بتا رہا ہوں۔ ایک صوبے نے حقیقت پر مبنی اعتراض کیا یہ تاریخ کا حصہ بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ یاد رہیگا کہ کسی نے اعتراض کیا تھا کہ وفاقی حکومت صوبوں میں میگا منصوبوں کے بجائے نالوں، گٹروں پر کام کررہی ہے۔ کیا میں نے غلط کہا کہ جامشورو روڈ پر یہ تین سالوں سے لگے ہوئے ہیں۔ کوئی نیا بڑا روڈ نہیں بنارہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تو ہمارا آئینی حق ہے صرف اس سال آپ کو سات سو بیالیس ارب دینے ہیں۔

یہ کوئی احسان نہیں ہے یہ ہمارا حق ہے۔ ستر فیصد اس صوبے سے کلیکٹ کرتے ہیں۔ اس پہ لفاظی کرکے چور کہہ دینا بس۔ غلط آرٹیکل کوٹ کرکے صوبے پر لگانے کی بات کرتے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبوں کو اس طرح سے نہیں کچل سکتے، جس طرح آپ سوچ رہے ہو۔ یہ بھٹو کا دیا ہوا آئین ہے۔

میرے حساب سے سندھ کی آبادی چھ کروڑ بیس لاکھ ہے۔ میں جوائنٹ سیشن بلانے کا مطالبہ کرتا ہوں۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ صوبے کو جوائنٹ سیشن بلانے کا حق دیا گیا ہے۔ ہم پنجاب کو نہیں کہہ رہے کہ وہ پانی چوری کررہا ہے۔ میرا وفاق اور ارسا سے ایشو ہے کہ پانی کی تقسیم منصفانہ نہیں کررہے، سندھ کو اگر پورا پانی آتا تو 8.82 ملین فٹ ایکڑ پانی ملنا چاہئیے تھا۔ مگر ان دو ماہ دس دن میں ہمیں 35 فیصد کم پانی ملا۔

انہوں نے کہا کہ میں یہ ذمہ داری پنجاب پر نہیں ڈال رہا۔ بلوچستان میں بھی پینتیس فیصد کم پانی گیا۔ ہم چاہتے ہیں اگر پانی کی قلت ہے تو معاہدے کے مطابق قلت کو تمام صوبوں پر مساوی تقسیم کیا جائے،

ان کا کہنا تھا کہ ان سے جب کام نہیں ہوتا تو کسی اور کو ملوث کردیتے ہیں۔ وفاق اور ارسا ذمہ دار ہیں۔ ہم سی سی آئی میں گئے ہیں یہ معاملہ تین سال سے سی سی آئی میں لٹکا ہوا ہے۔ ہم چوری کی تو بات نہیں کررہے صرف اتنا مطالبہ ہے کہ قلت کو تمام صوبوں پر مساوی لگایا جائے۔

صحافی نے وزیراعلی سندھ سے سوال کیا کہ کراچی نظر انداز کیوں ہے؟ جس پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی کے لئے فنڈز کی بالکل قلت ہے،

لیکن سینکڑوں اسکیم اس شہر میں چل رہی ہیں۔ کراچی میں مافیاز کام کرتی رہیں۔ کس طرح قبضے کروائے گیے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کو اپنا کہنے والوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے۔ اس شہر کی حالت اتنی بھی خراب نہیں جتنی بتائی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک اور اہم ایشو معاشی ٹارچر ہے، سندھ کا معاشی قتل کیا جارہا ہے۔ پبلک سروس کمیشن کے معاملے پر سندھ سے ناانصافی ہورہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم نے 2017 میں رولز بھی بنائے پھر بھی ایسا کیا گیا۔ سندھ پولیس کے بارے میں کچھ کہا گیا۔ کسی کو نیچا نہیں دکھانا۔ کراچی موسٹ ڈینجرس شہر ہوا کرتا تھا۔ یہ شہر سندھ پولیس کی کاوشوں اور قربانیوں سے بہتر ہوا ہے۔ آپ شہداء کی قربانیوں کی توہین کررہے ہیں۔

انکے ورثاء پر کیا گزرے گی۔ چائینیز قونصلیٹ ہر حملہ ہوا ایک شخص بلٹ پروف جیکٹ پہن کر آگیا تھا۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج حملہ ہوا۔ پولیس اہلکاروں نے جانوں کی قربانیاں دیں۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ وہ صوبہ جہاں کانوائے کے بغیر چل نہیں سکتے تھے، پولیس نے رینجرز کی مدد سے امن قائم کیا۔ عمران خان اتنا یاد نہیں جتنا مراد علی شاہ یاد ہے۔ اسی نے کہا کہ بڑا ٹف ٹائم دیتا ہے بھئی۔ میں فیکٹ پیش کرتا ہوں اور اپنے صوبے کے لئے لڑونگا۔

انہوں نے کہا کہ فواد چودھری کے کٹھ پتلی وزیراعلی کہنے کا دکھ نہیں۔ انہوں نے جو پولیس شہداء کی توہین کی ہے اس کا دکھ ہے۔ ان سے پرانی دوستی بھی ہے اس لئے میں انہیں زیادہ یاد ہوں۔ آپ اس صوبے میں آکر صوبے کی پولیس اور عوام کی توہین ایسے نہیں کرسکتے۔

مجھے شکوہ ضرور ہے کہ جو لوگ وہاں موجود تھے، انہوں نے سوال کیوں نہیں اُٹھایا۔ کل بجٹ تقریر میں باقی چیزیں پیش کرونگا۔

بحریہ ٹاؤن احتجاج اور گرفتاریوں کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پر امن احتجاج کی ہر کسی کو اجازت ہے۔ ہم کسی کو شک کی بنیاد پر گرفتار نہیں کریں گے۔

چھ لوگ چھوڑے گئے ہیں۔ کئی لوگوں کو گرفتار ہی نہیں کیا گیا۔ کچھ لوگوں نے ضمانت لے لی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے والوں لوگوں کو فائدہ اٹھانے نہیں دیں گے۔ میرا صرف یہ پیغام ہے کہ اگر آپ سڑکوں پر آکر پاکستان مخالف نعرے لگائیں گے تو آپ میں اور الطاف حسین میں کیا فرق ہے۔ بحریہ ٹاؤن کا پیسہ جب آئے گا تو اس کو ملیر کی فلاح و بہود پر خرچ کیا گیا۔

متعلقہ خبریں