نشوا کیس: ایس پی گلشن کی بچی کے والد کو دھمکی، اے آئی جی کا نوٹس

کراچی: مقدمہ درج کرانے سے ان کو کچھ نہیں ہوگا، نقصان آپ کا ہو گا، تکلیف آپ کو ہو گی، فیصلہ آپکا، ایس پی گلشن اقبال طاہر نورانی کی نشوا کے والد قیصرعلی کو دھمکی۔

ایس پی گلشن اقبال طاہر نورانی نے نشوا کے والد قیصرعلی کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ درج کرانے سے ان کو کچھ نہیں ہوگا، نقصان سوائے آپ کے کسی کا نہیں ہو گا، ہمارے مفاد اپنی جگہ، جو تکلیف آپ کو ہو گئی، وہ کسی اور کو نہیں، فیصلہ آپکا، مقدمہ درج کروائے لیکن پھر آُپ خود سے سوال کریں، نقصان آپ کا ہو گا۔

اس موقع پر موجود پیپلر پارٹی ڈسٹرکٹ ایسٹ کے صدراقبال ساند نے ایس پی گلشن کو چھاڑ پلا دی، انہوں نے کہا کہ آپ بار بار کہہ رہے ہے نقصان ہو گا، انکا نقصان ہو چکا ہے، ایس پی گلشن اقبال نے جواب میں کہا میں آپ سے بات نہیں کر رہا، آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں، میں والد سے سوال کررہا ہوں اور انکا جواب دینا بھی بنتا ہے۔

نشوا کے والد قیصرعلی نے میڈیا کو بتایا کہ مجھے ایس پی گلشن اقبال نے آئی سی یو سے نیچے بلوایا، جبکہ میں اوپر آنے کا کہتا رہا، آئی سی یو سے نیچے آیا تو طاہر نورانی کہتے ہے، کیا ڈرامہ لگایا ہوا ہے، نقصان آپکا ہو گا، اس سے بات سے خوفزدہ ہوں، بار بار اکیلے میں بات کرنے کا کہتے رہے، پتہ نہیں کس کی طرف سے بھیجھے گئے تھے۔

دوسری طرف ایڈیشنل آئی جی کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ نے ایس پی گلشن طاہر نورانی کی جانب سے دھمکیوں کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹا کر چھٹی پر بھیج دیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کی تھی جو انہیں ڈاکٹر سکندر علی میمن اور ڈاکٹر اعجاز خانزادہ نے بجھوا دی ہے، رپورٹ میں اسپتال انتظامیہ سے متعلق اور واقعے کی مکمل تفصیلات جمع کرائی ہیں۔

رپورٹ میں بچی کو انجیکشن لگنے سے متعلق مزید تحیقیقات کرانے اور ہیلتھ کییئر کمیشن کو اپنے قواعد کے مطابق اسپتال کی انسپکشن کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ پر وزیر اعلیٰ نے سندھ نے اس سلسلے میں دو رکنی ماہراطفال کو مقرر کردیا، دو رکنی ٹیم میں سرابرہ این آئی سی ایچ ڈاکٹر جمال رضا اور سول اسپتل لے ڈاکٹر ایم این لال شامل ہیں۔

دارلصحت اسپتال کی انتظامیہ کا نشوا کی صحت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا کی جانب سے اسپتال سے متعلق خبر کو یک طرفہ پیش کیا گیا، نو ماہ کی نشوا کو مکمل طبی امداد دینے کا سلسلہ گزشتہ رات تک جاری رہا۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق بچی کی صحت کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے ڈاکٹر نے کے سی ایل کا انجیکشن تجویز کیا، جس کے بعد بچی کے حالت کو دیکھتے ہوئے اسے والدین کی رضا مندی کے ساتھ سی پی آر کر کے آئی سی یو میں منتقل کیا گیا، آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا، وینٹی لیٹر مانیڑنگ پر رکھا گیا جہاں والدین نے بچی کو دوسرے اسپتال منتقل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، جسے اسپتال انتظامیہ نے پورا کرتے ہوئے لیاقت نیشنل کے ماہرین سے رابطہ کیا اور بچی کو منتقل کرنے کے انتظامات کیے۔

اسپتال انتظامیہ نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں والدین کے ساتھ کھڑے ہیں، میڈیا میں غلط انجیکشن لگانے کا تاثر دینا قابل افسوس ہے، واقعے میں مبینہ غفلت کے سلسلے میں تحقیقات کی جارہی ہیں، اسپتال انتظامیہ وزیراعلی سندھ کی جانب سے بنائی تحقیقاتی کمیٹی سے مکمل تعاون بھی کرے گی۔

واضح رہے کہ دارالصحت اسپتال میں زیر علاج نو ماہ کی بچی نشوا کے والد قیصرعلی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسپتال اسٹاف نے نشوا کو مبینہ طور پر غلط انجکشن لگا دیا ہے، جس کے باعث نشوا بچی ذہنی مفلوج ہوگئی ہے۔

قیصرعلی نے کہا تھا کہ اسپتال انتظامیہ کے خلاف ہر فورم پر جائیں گے، اداروں سے مکمل انصاف کی امید ہے، ایسا قانون بنایا جائے جس سے آئندہ ایسا واقعہ نہ ہو۔ بعد ازیں نشوا کے والد مقدمہ درج کرانے کےلیے شاہرہ فیصل تھانے پہنچے، ان کے  ہمراہ تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی بلال غفار بھی موجود تھے۔