جی ٹی وی نیٹ ورک
معیشت

سعودی پیکج، تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان

اسٹاک کے

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروبار کے دوران بینچ مارک ’کے ایس ای 100‘ انڈیکس میں ایک ہزار 200 سے زائد پوائٹس کا اضافہ ہوا اور یہ 45 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا۔

پیر کے روز انڈیکس میں ایک موقع پر ایک ہزار 298 پوائنٹس (2.94 فیصد) تک کا اضافہ ہوا تاہم یہ ایک ہزار 216 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔

ابا علی سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ سلمان نقوی نے ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کو بتایا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے قرض کی اگلی قسط کے لیے گزشتہ ہفتے اسٹاف لیول معاہدہ ہونے، سعودی عرب سے قرض کی رقم ایک دو روز میں مل جانے اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی بازار حصص کو اوپر لے جانے میں معاون ثابت ہوئی ہے اور امید کی جارہی ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں گرواٹ کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو اس سے ہمیں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے اور افراط زر کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی اور روپے کی قدر پر جاری دباؤ بھی کم ہوگا۔

اسٹاک بروکر ظفر موتی کا کہنا تھا کہ پاکستان مارکیٹ ایمرجنگ انڈیکس سے نکل کر فرنٹیر میں آئی ہے اور اب فرنٹیر انڈیکس میں آنے کے بعد غیر ملکی فنڈز نیچے لیول پر مارکیٹ میں خریداری کر رہے جس سے کئی ہفتوں بعد اچھے حجم کے ساتھ مارکیٹ میں تیزی ہوئی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ سعودی عرب سے ڈالر ملنے کے بعد یہاں تیزی کی نئی لہر آسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بڑے عرصے بعد بورڈ پر اکثریتی کمپنیاں سبز دکھائی دی ہیں جو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ جمعہ کو مارکیٹ 44 ہزار 114 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوئی تھی۔

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 15 فیصد کم، پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان

ہفتہ کو سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو ملنے والے 3 ارب ڈالر اور 1.2 ارب ڈالر مالیت کے تیل کی سہولت کے پیکیج بحالی کی سمریز کی کابینہ نے منظوری دی تھی۔

خزانہ ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی سمری میں نشان دہی کی گئی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کی تیاری کے بعد جانچ پڑتال کی گئی اور وزارت قانون اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کے دفتر سے سمری کلیئر ہونے کے بعد وزیراعظم کو بھیج دی گئی تھی۔

ڈان ڈاٹ کام کو دستیاب سمری کی کاپی میں کہا گیا کہ ‘ایکسچینج ریٹ کے حوالے سے موجودہ دباؤ فوری طور پر کم کرنے کے لیے’ وزیراعظم اس کو کابینہ کے سامنے رکھنے کی منظوری دے دیں۔

سمری میں کہا گیا کہ ایک سالہ معاہدے سے سالانہ 4 فیصد منافع ہوگا۔

معاشی امور کی وزارت کی جانب سے ایک اور سمری پیش کی گئی جو ایک سال کے لیے 10 کروڑ ڈالر مالیت کی تیل کی سہولت سے متعلق تھی۔

مذکورہ سمری میں کہا گیا تھا کہ باہمی رضامندی سے ایک سال کی توسیع دی جاسکتی ہے، جس میں 3.80 فیصد مارجن کے ساتھ سعودی ڈیولپمنٹ فنڈ(ایس ایف ڈی) سے خریداری قیمت سمیت دیگر شرائط کی نشان دہی کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران کی جانب سے اکتوبر میں دورہ سعودی عرب کے موقع پر مالی پیکیج کی فراہمی اور تیلی کی سہولت دینے کے معاہدے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں