جی ٹی وی نیٹ ورک
کالمز و بلاگز

ٹریفک جام پر راستہ بدلنے سے پہلے ایک بار” پھر” سوچئیے!

ٹریفک جام

ہم میں سے اکثر لوگوں کا یہ تجربہ رہا ہے کہ ہم ٹریفک جام دیکھتے ہوئے فوری طور پر اپنا راستہ بدل لیتے ہیں اور طویل راستہ چنتے ہیں ۔اس وقت ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہم تھوڑا وقت ٹریفک جام میں لگالیں اور پھر سکون سےاس روڈ سے جائیں جو بظاہر ابھی جام ہے مگر آگے جاکر سیدھی اور منزل بھی کم فاصلے پر مبنی ہے۔

 

مگر عجلت اور بے یقینی کی وجہ سے ہم مختصر مشکل کے بجائے طویل مشکل کو چن لیتے ہیں۔

 

یہ پڑھیں : انتہا پسندی معاشرے کے لئے زہر قاتل

 

لیکن اکثر اوقات میرا ذاتی تجربہ رہا ہے کہ میں نے ٹریفک جام ہونے کے باوجود طویل راستے کو چننے کے بجائے ٹریفک جام والا راستہ چنا ہے اور اس بات کا فیصلہ کرنے میں مجھے چند سیکنڈز کا وقت ملا ،

لیکن حیرت انگیز معاملہ یہ ہوا کہ ٹریفک جام کا سلسلہ بہت مختصر وقت کا تھا جس کی بعد والا راستہ انتہائی آسان تھا اور مختصر بھی تھا۔

 

لیکن اگر میں ٹریفک جام سے گھبرا کر طویل راستہ چنتا تو مجھے وہ شاید بنا ٹریفک کے ملتا لیکن اس میں وقت زیادہ لگتا اور انرجی بھی زیادہ لگتی۔لیکن مشکل کو دیکھ کر اس سے نمٹنے کا فیصلہ بظاہر مشکل محسوس ہوتا ہے مگر جب اس میں داخل ہوجاتے ہیں تو وہ معاملہ آہستہ آہستہ آسان ہوجاتا ہے۔

 

یہ پڑھیں : مافیا کیا ہوتی ہے ؟

 

ٹریفک جام کو دیکھ کر راستہ بدلنے کا فیصلہ ہماری زندگیوں سے کتنا ملتا جلتا ہے۔ اکثر اوقات ہماری زندگی میں کچھ ایسے سلسلے درپیش آتے ہیں جو بظاہر ہمیں مشکل اور طویل لگتے ہیں اور ہم راستہ بدلنے کا سوچتے ہیں۔

لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہر مشکل سے لڑنے کا سوچ لیتے ہیں اور پھر مشکل کوحل کرکے کامیاب بھی ہوتے ہیں ۔

 

لیکن بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو سامنے مشکل دیکھ کر اس سے لڑنے کے بجائے فوری طور پر اپنے قدم پیچھے کرلیتے ہیں۔ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ معاملہ نا ممکن ہے اور راستہ بدلنا ہی زیادہ بہتر ہے۔ راستہ بدلنے والے فوری طور پر راستہ بدل کر اپنی منزل دور کرلیتے ہیںاور اس فیصلے سے ان سے بڑی کامیابی بھی دور جاتی ہے اور ساتھ ساتھ وقت بھی زیادہ لگتا ہے۔

 

 

61,151 Traffic Jam Stock Photos, Pictures & Royalty-Free Images - iStock

 

یہ ٹریفک جام اور راستہ بدلنے کا کتنا گہرا تعلق ہماری زندگیوں سے ہے۔ ہم کوئی بڑا کام کرنے کے لئے نکلتے اور منزل کا تعین کرتے ہوئے اس جانب بڑھتے ہیں لیکن راستے میں کوئی رکاوٹ آجائے تو منزل کے جانب جانے والے قدموں میں لغزش پیدا ہوجاتی ہے اور ارادے کمزور ہوجاتے ہیں ۔

 

منزل کے خوبصورتی کے بجائے راستوں کے رکاوٹوں کو اپنےذہن پر حاوی کرکے راستہ بدلنے کی نیت کرتے ہیں اور پھر راستہ بدل کر ایک نیا راستہ اور ممکنہ طور پر ایک نئی منزل چنتے ہیں ۔ جو بظاہر پرانی منزل اور پرانے راستے سے آسان ہوتی ہے مگر حقیقی منزل جو دراصل اپ کا خواب ہوتی ہے اس سے دور ہوجاتے ہیں۔

 

یہ پڑھیں : پاکستانیوں کی منفرد مگر منفی سوچ

 

لیکن کچھ ایسے بھی مضبوط ارادوں کے لوگ ہوتے ہیں جن نظروں میں صرف منزل ہوتی ہے اور وہ نہ کٹھن راستے دیکھتے ہیں اور نہ پاؤں میں چھبنے والے کانٹے، ان کےپیش نظر فقط منزل ہوتی ہے جس پر ان کو ہر حال میں پہنچنا ہوتا ہے اور وہ راستوں کو خاطر میں نہیں لاتے ۔

 

وہ کامیاب بھی ہوتے ہیں اور منزل پر پہنچنے کے بعد سکون بھی پاتے ہیں ۔ یعنی اس ٹریفک جام کی صورتحال سے ایک سبق ہمیں یہ بھی ملتا ہے کہ بظاہر یہ جو راستے جام ہیں یہ چند منٹ بعد کھلی اور ہموار شاہراہ میں بدل جائیں گے جو با آسانی منزل مقصود تک پہنچادیں ،تب تک کے لئے تھوڑی استقامت اور صبر دکھانا ضروری ہے۔

نوٹ : جی ٹی وی نیٹ ورک اور اس کی پالیسی کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

 

متعلقہ خبریں