جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

سوئی سدرن نے کراچی میں گیس پریشر کم کرنے کا اعتراف کرلیا

سوئی سدرن

کراچی: سوئی سدرن گیس کمپنی نے شہرمیں گیس پریشر کم کرنے کا اعتراف کرلیا، رات گیارہ بجے سے صبح تک پریشر کم کردیا جاتا ہے۔

ترجمان ایس ایس جی سی شہباز اسلام کا کہنا تھا کہ رات گیارہ بجے سے صبح تک گیس پریشر کم کردیا جاتا ہے، اضافی بلنگ نہیں کی جاتی میٹر کی رفتار کم ہونے پر سلو میٹر چارجز لیئے جاتے ہیں۔

شہباز اسلام کا کہنا تھا کہ مقامی صارفین کے لئے گیس کی لوڈشیڈنگ نہیں کی جارہی، مقامی صارفین دن میں گیس استعمال کرتے ہیں رات میں استعمال کم ہوجاتا ہے۔

رات گیارہ بجے سے صبح تک پریشر کم کردیا جاتا ہے، جن علاقوں میں لیکیجز زیادہ ہیں ان علاقوں میں بھی پریشر کم کردیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس جی سی اور بلنگ نہیں کرتی، جن صارفین کے میٹر کی رفتار کم ہوجائے، سروے کرکے ان کے میٹرتبدیل کردیئے جاتے ہیں، جن صارفین کے میٹر کی رفتار کم ہوجائے ان پر پی یو جی چارجز لگاتے ہیں۔

پاسنگ آف انرجسٹرڈ گیس چارجز اپنے والیم کے حساب سے لگاتے ہیں۔ تین مہینے کا استعمال دیکھ کر ایک برس کا لگاتے ہیں، اگر پانچ سو روپے بل آتا تھا اور پھر تین سو روپے آنے لگے تو استعمال کم نہیں ہوتا۔ پی یو جی چارجز غیر قانونی نہیں ہے،

یہ بھی پڑھیں: گیس کمپنیوں نے گیس 97 فیصد تک مہنگی کرنے کی سفارش کردی

ترجمان ایس ایس جی سی کا کہنا تھا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کی ذمہ داری کے الیکٹرک پر ہے، کے الیکٹرک کو پہلے گرمیوں میں 90 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دیتے تھے،

اس بار ان کو 130 ایم ایم سی ایف ڈی آرایل این جی اور60 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دینگے۔ کے الیکٹرک کو ان گرمیوں میں بجلی فراہم کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہیئے،بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دوران لوگ گیس جنریٹر اور کمپریسرکا استعمال بڑھا دیتے ہیں جو غیرقانونی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گیس کمپریسر استعمال کرنے کا جرمانہ ایک لاکھ روپے اور چھ ماہ قید ہے، شہر اگر گیس چوری یا کمپریسرکا استعمال دیکھیں تو ایس ایس جی سی کو بتائیں، لیاری کے لیے پرانی نمائش سے لیاری تک 12 انچ کی لائن بچھائی جارہی ہے۔ کلفٹن ڈیفینس کے لیے بھی 20 انچ قطر کی لائن بچھائی جارہی ہے، ان لائنوں سے ان علاقوں کے مسائل حل ہوں گے۔

متعلقہ خبریں