جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

سپریم کورٹ کا گجر نالہ کے متاثرین کیلئے ایک ہفتہ میں حکمت عملی بنانے کی ہدایت

گجر نالہ کے متاثرین

کراچی : سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ گجر نالہ کے متاثرین کیلئے ایک ہفتہ میں حکمت عملی بنائی جائے۔

سپریم کورٹ رجسٹری میں کراچی میں غیر قانونی تجاوزات آپریشن کے معاملے کی سماعت ہوئی۔ ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی نے بتایا کہ عدالتی حکم پر تجاوزات گرانے کا کام پھر شروع کردیا ہے۔ پویلین اینڈ کلب اور الہ دین شاپنگ سینٹر گرانے کا کام شروع کردیا ہے۔ مزاحمت ہوئی نقص امن کا مسئلہ ہوا تھا۔ پولیس اور رینجرز کی مدد سے کام شروع کیا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ آپ لوگوں نے ہی قبضہ کرایا ہے۔ جن لوگوں نے دو نمبر کام کیے ہیں، سب گرفتار ہوں گے۔

ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی نے کہا کہ مشینری کم ہے کچھ عرصہ لگ سکتا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کے آپ لوگوں نے ایم سی جیسے ادارے کو کھوکھلا کردیا۔ کے ایم سی تو خود اپنا فنڈز جنریٹ کرتی تھی۔ ساری مشینری گل سڑ رہی ہے۔

ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی نے کہا کہ آکٹرائے ٹیکس ختم ہوا ہے، جب سے ہم ڈیپنڈنٹ ہوگئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سب سے پہلے تو عملہ دس فیصد کردیں۔ کس کام کا یہ اسٹاف ہے جو سڑکوں پر ایک آدمی نظر نہیں آتا۔ کوئی آفت آجاۓ تو لوگ رُل جاتے ہیں کوہئ پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ پورے شہر کو تباہ کردیا جو ادارے کام کررہے تھے انہیں ختم کردیا۔

یہ بھی پڑھیں : سپریم کورٹ نے الہ دین واٹر پارک سے متصل شاپنگ سینٹر، کلب سمیت تمام تجاوزات ختم کرنے کا حکم دیدیا

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کرپشن کا راج ہے، آپ کے پاس صرف تنخواہیں لینے والا اسٹاف ہے۔ آپ کرکیا رہے ہیں؟ کشمیر روڈ پر میدان خالی کرایا ؟ کلب آپ کی زمین پر غیرقانونی بنایا ہوا تھا۔

وکیل کے ایم سی نے کہا کہ چھت مسمار کردی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چھت گرا دی مگر ملبہ اب بھی موجود ہے۔ پارک کو بحال کریں بچوں کیلئے اور عوام کیلئے۔ کشمیر روڈ پاکستان کے خوبصورت ترین سڑکوں میں تھا۔ یہ تو اخباروں میں آتا تھا۔ آگے جاکر امتیاز اسٹور بنادیا ، تباہی مچادی ساری۔ آپ کے میئر کی کوئی کنسٹرکشن کمپنی تھی اس کا دفتر بنادیا تھا۔ وہ دفتر گرایا یا نہیں آپ نے؟

ایڈمنسٹریٹر نے کہا کہ کے ایم سی آفیسرز کلب مسمار کرچکے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بڑے بڑے دفاتر بنے ہوے تھے ہم نے کہا تھا گرائیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ گجر نالہ کے متاثرین کیلئے وزیر اعلیٰ اور وفاقی حکومت کو مشترکہ حکمت عملی بنانی ہوگی۔ ایک ہفتہ کی مہلت دے دیں یہ انسانی مسئلہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اپنا حکم نہیں روکیں گے، کام جاری رکھیں۔

ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ لوگوں نے چیک وصول نہیں کیے، کیس کردیا سمجھ رہے تھے، مکان بچ جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ خیال رکھیے گا، کچھ لوگ چیک بھی لیں گے اور دعوی بھی کردیں گے۔

عدالت نے ایک ہفتہ میں وفاقی اور صوبائی حکومت کو متاثرین کیلئے حکمت عملی بنانے کی ہدایت کردی۔

متعلقہ خبریں