آرٹیکل 370 : سپریم کورٹ کے کچھ جج مودی کے فیصلے کے انتظار میں ہیں : امرتا سین

امرتا سین

کراچی : عالمی نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر امرتا سین نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے کچھ جسٹس اس انتظار میں ہیں کہ مودی حکومت کیا چاہتی ہے، اس کے بعد وہ کارروائی کو آگے بڑھائیں گے۔

امریکی جریدے نیویارکر کو دیے گئے انٹرویو میں عالمی نوبل انعام یافتہ بھارتی ماہر معاشیات ڈاکٹر امرتا سین نے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کشمیر کے معاملے پر مقدمے کی سماعت کر رہا ہے، کچھ جسٹس اس انتظار میں ہیں کہ مودی حکومت کیا چاہتی ہے، اس کے بعد وہ کارروائی کو آگے بڑھائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام کو کسی بھی معاملے میں جوش دلانا نہایت آسان ہے، جیسے بھارتی انتخابات میں مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر دلایا گیا اور اسی طرح انتخابات کے دنوں میں پلوامہ حملے کے بعد پاک بھارت جنگ کا راگ لاپا گیا، جس کے باعث ہندو توا کو بہت مقبولیت ملی۔

یہ بھی پڑھیں : کنٹرول لائن پار کی تو وہ بھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہوگا : وزیر اعظم

انٹرویو میں امرتا سین نے کہا کہ ہندوستان کے بارے میں مودی کے نظریے میں کوئی وسعت نہیں ہے مگر بطور لیڈر مودی بہت کامیاب رہنماء ہے، مودی کو بزنس کمیونٹی کی حمایت حاصل ہے، انتخابات کے دنوں میں مودی کے پاس دوسری پارٹیوں کے مقابلے میں بہت پیسہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ مودی بھاری اکثریت کے ساتھ جیتے لیکن ہمارے انتخابی نظام میں بہت خامیاں ہیں، بھارت میں 2 سو ملین مسلمان، 2 سو ملین دلت ہیں، انتخابات کے دوران ان میں سے کئی افراد کو مار دیا گیا یا قید کرلیا گیا، اس لیے یہ کہنا کہ مودی کو اکثریت حاصل تھی مشکل ہوگا۔

ماہر معاشیات کا مزید کہنا تھا کہ بھارت ایک وفاقی ملک ہے، ایسی کئی ریاستیں ہیں، جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) غالب نہیں، مغربی بنگال، تامل ناڈو اور کیرالہ ان ریاستوں میں شامل ہیں۔

بھارت میں میڈیا کی آزادی پر ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی پیدا کردہ مشکلات کے بعد آزاد میڈیا کا تصور بھی بہت مشکل ہے، جان اسٹورٹ مل سے جو بڑی بات ہم جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ بحث و مباحثے سے جمہوری حکومت بنتی ہے، اگر آپ بات چیت کو ڈراونا بنا دو گے تو جمہوریت نہیں ملے گی۔

امرتا سین نے کہا کہ آزادی اظہارِ رائے اس حد تک محدود ہے کہ لوگ اس سے پہلے اتنا نہیں ڈرے جتنا اب ڈر کے رہ رہے ہیں، اگر کوئی مجھ سے فون پر مودی سرکار سے متعلق بات کرتا ہے تو بہت محتاط ہوتا ہے، لوگوں کو یہ ڈر ہے کہ حکومت ان کی کال کو سن رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ جمہوریت چلانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔

نامور ماہر معاشیات نے انٹرویو میں بتایا کہ ہندوستان نے اس وزیر اعظم کو منتخب کیا جو اقلیتوں کے خلاف بڑے پیمانے پر نسلی تشدد کی سربراہی کرتا تھا، مودی کی سب سے بڑی فتح ان پر اور بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ پر عائد گجرات فسادات کے مقدمات کو ختم کرانا تھا۔