جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

سپریم کورٹ نے ڈی جی نیب کی تقرری پر سوال اٹھادیا، تمام ڈی جیز کی تقرریوں سے متعلق تفصیلات طلب

تمام ڈی جیز

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تمام ڈی جیز کی تقرریوں سے متعلق تفصیلات طلب کرلیں۔

سپریم کورٹ میں نیب افسر بن کر فراڈ کرنے والے ملزم محمد ندیم عباسی کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔

عدالت نے ڈی جی نیب عرفان نعیم منگی کی تقرری اور اہلیت پر سوال اٹھا دیا، عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے نیب کے تمام ڈی جیز کی تقرریوں سے متعلق تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ چیئرمین نیب آئین اور قانون کو بائی پاس کر کے کیسے بھرتیاں کر سکتے ہیں۔ محمد ندیم مڈل پاس ہے، بہاولپور سے وہ کیسے نیب افسر بن کر کال کرتا تھا۔ ملزم نے ایم ڈی پی ایس او کو ڈی جی نیب بن کر کال کی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مڈل پاس ملزم کے پاس صرف ایک بھینس ہے۔ ملزم کے پاس بڑے بڑے افسران کے موبائل نمبرز کیسے آگئے؟

نیب پراسیکوٹر نے بتایا کہ ایم ڈی پی ایس او سمیت 22 افراد کی مخلتف شکایات ملیں، ایم ڈی پی ایس او نے ڈی جی نیب عرفان منگی سے رابطہ کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ عرفان منگی صاحب آپ کی تعلیم اور تنخواہ کیا ہے؟ عرفان نعیم منگی نے بتایا کہ میں انجینئر ہوں، میری تنخواہ 4 لاکھ بیس ہزار روپے ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ عرفان نعیم منگی کیا آپ فوجداری معاملات کا تجربہ رکھتے ہیں؟ جس پر عرفان منگی نے بتایا کہ میرا فوجداری مقدمات کا کوئی تجربہ نہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ایک انجینئر نیب کے اتنے بڑے عہدے پر کیسے بیٹھا ہوا ہے؟

عدالت نے درست معاونت نہ کرنے پر ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نیاز اللہ نیازی اور نیب پراسیکوٹر عمران الحق کی سخت سرزنش کی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیب تقرریوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب کس قانون کے تحت بھرتیاں کرتے ہیں؟ چیئرمین نیب اب جج نہیں انھیں ہم عدالت بلا سکتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ عرفان منگی کس کی سفارش پر نیب میں گھس آئے؟ مارشل لا میں قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ ہمیں اللہ سے زیادہ ایک ڈکٹیٹر کا خوف ہوتا ہے؟ مارشل لا سے بہتر ہے دوبارہ انگریزوں کو حکومت دے دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں : سانحہ اے پی ایس : سپریم کورٹ کا انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر وفاقی حکومت سے 4 ہفتوں میں جواب طلب

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نیب عوام کے پیسے سے چلتا ہے، سب عوام کے نوکر ہیں۔ ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا، ہر بندہ کرسی پر بیٹھ کر اپنا ایجنڈا چلا رہا ہے، ہم نیب کا میڈیا ٹرائل نہیں کر رہے، ویسے بھی میڈیا والے آج کشمیر واک پر گئے ہوئے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید ریمارکس دیئے کہ نیب والے عوام کے نوکر ہیں، بہت مواقع دیے مگر نیب کے غیر قانونی کام جاری ہیں، نیب افسران کی نااہلی کیوجہ سے لوگ جیلوں میں سڑ رہے ہیں، لوگوں کو ڈرانے کیلئے نیب کا نام ہی کافی ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم اپنا کام قانون کے مطابق کرتے ہیں، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لگتا ہے ہمیں نیب کیلئے قانون کی کلاسز لگانا پڑیں گی، 1999 سے اب تک کوئی رولز اینڈ ریگولیشنز بنائے ہی نہیں گئے۔

جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیئے کہ ابھی تک کسی گواہ کا ابتدائی بیان ہی نہیں لیا گیا، ہم سب ریاست کے ملازم ہیں، ہم سب نے ملکر قانون کی عملداری میں حائل قوتوں کا مقابلہ کرنا ہے۔

عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی۔

متعلقہ خبریں