پی ٹی آئی حکومت کا تین سالہ نئی حج پالیسی بنانے پر غور

حج پالیسی

اسلام آباد: وفاقی حکومت تین سالہ حج پالیسی بنانے پر غور کررہی ہے، جس کے لیئے تمام انتظامات بھی تین سالہ ہوں گے۔

وزارت مذہبی امور نے آئندہ کے لئے تین سالہ حج کی پالیسی بنانے پر غور شروع کردیا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت انڈونیشیا طرز پر پالیسی مرتب کرنے پر غور کررہی ہے۔ تین سالہ پالیسی کے تحت حج انتظامات بھی پیشگی تین سال کے لئے کئے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : وزارت مذہبی امور کی سوشل میڈیا پر پاکستانی عازمین حج سے متعلق چلنے والی ویڈیوز کی تردید

ذرائع کے مطابق وزارت مذہبی امور حج 2020 کے لئے فارم میں بھی تبدیلی کرنے پر غور کررہی ہے۔ نئے حج فارم کو آسان اور عام فہم بنانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ سعودی عرب میں عمارتیں، قیام وطعام اور ٹرانسپورٹ کا بندوبست بھی 3 سال کے لئے کیا جائے گا۔

3 سالہ حج کی پالیسی کے تحت درخواست گزاروں کی قرعہ اندازی بھی تین سال کے لئے ہوگی۔ تین سالہ حج قرعہ اندازی درخواستوں کی وصولی کیساتھ ایک ہی بار کی جائے گی۔ حج پالیسی کے تحت ایک حج فنڈ قائم کیا جاسکے گا۔

نئی پالیسی کے لئے ضعیف العمر خواتین کے محرم ساتھ لیجانے کی شرط میں تبدیلی پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ ضعیف خاتون اپنی مددگار خاتون اور ایک محرم کیساتھ جانے کی اجازت دی جائے گی۔

روڈ تو مکہ منصوبہ کے لئے کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور ملتان میں انتظامات کرنے کا معاملہ اور آئندہ حج کے دوران حجاج کی رہنمائی کے لئے معاونین کو منیٰ کے مکاتب میں مقرر کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔