جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

تھر کول پراجیکٹ سندھ حکومت کی محنت کا صلہ ہے، باتیں نہیں کام کرکے دکھایا : مراد علی شاہ

سندھ حکومت کی محنت

کراچی : وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ تھر کول مائننگ اور پاور پراجیکٹس سندھ حکومت کی ان تھک محنت کا صلہ ہے۔ ہم نے صرف باتیں نہیں کیں بلکہ کام کرکے دکھایا۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت تھر کول اینڈ انرجی بورڈ کا 22واں اجلاس ہوا۔ اجلاس کے شرکاء کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ تھر کول ون 3.8 ایم ٹی پی اے کا منصوبہ ہے۔ منصوبے کی لاگت 627 ملین ڈالرز ہے۔ اس وقت 6 ملین ٹن کوئلہ نکالا گیا ہے۔ تھر کول ٹو کی گنجائش 7.6 ایم ٹی پی اے (میٹرک ٹن پر انم) ہے۔

بریفنگ کے مطابق ایس ای سی ایم فیز تھری میں 7.6 ایم ٹی پی اے سے بڑھاکر 13 ایم ٹی پی اے کول مائین کرے گا۔ ان کی مائننگ توسیع فزیبلٹی مکمل ہوچکی ہے۔ تھرکول بلاک ٹو پر 230 میگاواٹ کے 2 پاور پروجیکٹ 10 جولائی 2019 سے کام کر رہا ہے۔ ابھی تک تھر کول سے 3.5 جی ڈبلیو ایچ بجلی نیشنل گرڈ میں جاچکی ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاور پروجیکٹ ورلڈ بینک کی ماحولیاتی گائیڈ لائنز کے 100 فیصد کے مطابق ہے۔ فیز تھری میں تھر انرجی لمیٹڈ کے پاور پلانٹ پر 60 فیصد اور تھل نوول کے پاور پروجیکٹ 30 فیصد کام ہوچکا ہے۔ یہ دونوں منصوبے سال 2022 میں کام شروع کردیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : تھر میں بھارتی ایف ایم ریڈیو اسٹیشن کی نشریات، وفاقی و صوبائی حکومت اور دیگر محکموں کو نوٹسز

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ تھر کول مائننگ اور پاور پراجیکٹس سندھ حکومت کی ان تھک محنت کا صلہ ہے۔ ہم نے صرف باتیں نہیں کیں بلکہ کام کرکے دکھایا۔ تھر کول منصوبے ملک کی توانائی کی ضروریات کا ضامن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تھر کول مائنز سے نیو چھوڑ عمرکوٹ تک ریلوے لنک بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ ریل پٹڑی 105 کلومیٹر پر مشتمل ہوگی،

یہ 300 ملین ڈالرز کا منصوبہ ہوگا، جس میں ویگنز اور لوکوموٹیویز بھی شامل ہونگی۔

اجلاس میں بورڈ کے ارکان ایم این اے شازیہ مری، وزیر توانائی امتیاز شیخ، مشیر مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری ممتاز شاہ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری توانائی طارق شاہ، عبدالغنی پٹھان، آصف حیدر مرزا، شہاب قمر شریک ہوئے۔ وفاقی حکومت سے ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن، پاور ڈویزن کے وسیم مختار اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ خبریں