جی ٹی وی نیٹ ورک
کالمز و بلاگز

بجٹ سے کوئی امید بر نہیں آتی

بجٹ کوئی

بجٹ ہر گھر کی ضرورت ہوتا ہے اور ہر کوئی اپنے وسائل کے مطابق اپنا ایک بجٹ بناتا ہےاور پھر اس بجٹ پرچل کر مہینے اورسال گزارے جاتے ہیں۔بجٹ کئی قسم کے ہوتے ہیں ، روزانہ کا بجٹ الگ ہوتا ہے ،

ہفتے کا بجٹ بھی ہوتا ہے، مہینے کا بجٹ بھی ہوتا ہےاور سال کا بھی بجٹ ہوتا ہے، بلکہ کئی کئی سالوں تک کا بجٹ ہوتا ہے۔

 

اسی طرح شہروں کا، صوبوں کا، ملکوں کا بھی بجٹ ہوتا ہےتاکہ موجودہ وسائل کے مطابق اپنی ضروریات ، ترقیاتی کام، اکانومی بڑھانے کے اقدامات، عام عوام کے فلاح و بہبود کے لئے ایک رقم مختص کی جائے تاکہ نظام کونظم و ضبط کے ساتھ چلایا جاسکیں ۔مختصر یوں کہا جاسکتا ہے کہ معاشی وسائل کے مطابق نظام ملک یا گھر کو نظم و ضبط سےچلانے کے فارمولے کو بجٹ کہاجاتا ہے۔

 

یہ پڑھیں : مہنگائی میں اضافہ یا خرچے بڑھ گئے ہیں 

 

عمران خان حکومت نے اپنا چوتھا بجٹ پیش کردیا ، اور یہ بجٹ پیش کیا ہے مشہور زمانہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے جو ماضی میں بھی پاکستان کے خزانے کے قریب رہیں ہیں اور بڑ ےبڑے فیصلے بھی کئے ہیں۔بجٹ سے عام پاکستانیوں کو ہمیشہ توقعات رہی ہے مگر ہمیشہ کی طرح دل ٹوٹنا واجب ٹھہڑا۔

 

بجٹ حکومت پیش کرتی ہے اور ایسے دکھاتی ہے کہ یہ عوام دوست بجٹ ہے مگر عوام دوست والے سلسلے یعنی فیصلے بہت کم ہوتے ہیں ۔اسی طرح بجٹ میں کچھ اچھا بھی ہو تو اپوزیشن کو نظر نہیں آتا اور وہ عوام دشمن بجٹ ہی کہلایا جاتاہے۔

 

Budget 2021-22 Live Updates: Latest News Of Budget 2021 Pakistan

 

کوشش کرتے ہیں عمران خان کی ریاست مدینے کے چوتھے بجٹ کے خاص خاص نکات پرگفتگو کرنے کی۔ جیسے مزدور کی تنخواہ 20 ہزار کردی ہے ۔

بہت اچھا فیصلہ ہے مگر جس حساب سے مہنگائی بڑھی ہے اس حساب سے تو یہ تنخواہ بھی بہت کم ہے۔ اسی طرح20 ہزار کاغذ کی حد تک کر تو دی مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ کس کس جگہ پر اس پر عمل ہوگا کیونکہ بہت سے اداروں اور بہت سی جگہوں پر تو اس پر عمل نہیں ہوسکتا۔

 

ایک جانب حکومٹ ڈیجیٹل سیکٹر میں نئے نئے منصوبے لارہی ہے مگر دوسری جانب انٹرنیٹ کے استعمال پر اضافی ٹیکس لگارہے ہیں ، ارے یہ کیا احمقانہ حرکت ہے۔ڈیجیٹل مطلب انٹرنیٹ اور اس پر آپ ٹیکس لگارہے ہیں یعنی پہلے قریب بلارہے ہیں اور پھر دھتکار رہے ہیں۔

 

سرکاری ملازمین کی تنخواہ بڑھا دی گئی ہے اور پنشن بھی، بہت اچھی بات ہے مگر پرائیوٹ سیکٹر میں کام کرنے والوں کے لئے کیا پالیسی ہے وہ بھی جو محنت کرتے ہیں اس کا فائدہ پاکستان کو پہنچتا ہے مگر ان کے لئے حکومت کوئی پالیسی کیوں نہیں بناتی یا پھر پرائیوٹ سیکٹر کے لئے کوئی قانوی سازی کیوں نہیں کرتے ہیں جس کا فائدہ عام پرائیوٹ ملازم کو ہو۔

 

اسی طرح اگر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ اس بجٹ میں بڑے تاجر کے لیے کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کی اسکیم کو بہتر کیا گیا ہے مگر چھوٹے تاجر کو مکمل نظر انداز کر دیا گیا۔

 

اس بارے میں جانیئے : ہم خواہشات کےاسیر بن گئے ہیں

 

یہ کچھ چیدہ چیدہ نکات تھے جو عام عوام سے جڑے ہیں اور جڑے رہیں گے۔ بجٹ تو پیش ہوگیا ہے اور منظور بھی ہو ہی جائے گا۔مگر عام عوام کے لئے اس بجٹ میں کوئی ایسی خاص چیز نہیں ہے جس سے اس کو کسی طور عوام دوست بجٹ کہا جاسکیں۔

 

اس حکومت کی سب سے بڑی ناکامی اس کی بیڈ گورننس ہے جس کی وجہ سے مہنگائی کا سونامی چند دن بعد آتا رہتا ہے کوئی روکنے والا نہیں کوئی ٹوکنے والا نہیں۔یہ حقیقت ہے کہ اس حکومت کے دور میں ہر بڑا مزید بڑا اور تگڑا ہوگیا ہے جب کہ ہر غریب مزید غریب اور رگڑ گیاہے۔

 

SAMAA - Pakistan inflation at lowest level in two years: report

عام عوام کو بجٹ کے ہندسوں سے کوئی دلچسپی نہیں وہ تو بہت مہنگائی سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔ عام عوام محنت کرتی ہےا ور خوب محنت کرتی ہے مگر پھر بھی ان کی ضروریات پوری نہیں ہوپاتی ۔ لیکن دوسری جانب امیر طبقہ امیر تر ہوتاجاتا ہے ۔

 

بدقسمتی سے بجٹ پیش کیاجاچکا ہے مگر عام عوام کو ہمیشہ کی طرح آسرے میں رکھا ہے ۔ حکومت کہتی ہے بلکہ دعوی کرتی ہے کہ ملک کے معاشی حالت بہتر ہورہے ہیں مگر اس کا پیمانہ عام عوام کے حالات سے نکلے گا جو بہرحال بہت بُری ہوچکی ہے۔

 

نوٹ : جی ٹی وی نیٹ ورک اور اس کی پالیسی کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

 

 

متعلقہ خبریں