جی ٹی وی نیٹ ورک
دلچسپ و عجیب

بچوں کا قتل کرکے ان کا خون پینے والا شخص مارا گیا

خون

نیروبی: کمسن بچوں کو قتل کرکے ان کا خون پینے والے سفاک درندے کو علاقہ مکینوں نے گلا گھونٹ کر مار ڈالا۔

کینیا کے علاقے کاموکنجی میں بچوں کا خون پینے والا “ویمپائر” جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا، مجرم جیل سے فرار ہوگر اپنے گھر آگیا تھا، 20سالہ سفاک درندے کو گزشتہ ماہ دس بچوں کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

بیس سالہ ملزم مسٹن میمو وانگالا کو عدالت میں پیشی پر لے جایا جانا تھا، تاہم جب جیل حکام کو پتہ چلا کہ وہ یہاں موجود ہی نہیں تو ان کے ہوش اڑ گئے۔ جیل حکام نے فرائض میں غفلت برتنے پر ڈیوٹی پر تعینات تین افسران کو معطل کرکے حراست میں لے لیا۔

نیروبی کے گورنر مائیک سونکو نے ملزم کی نشاندہی کرنے والے شخص کیلئے بھاری انعام کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: برازیل: موبائل فون نے مبینہ طور پر شہری کی جان بچالی

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایک عینی شاہد نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ وہ جیل سے بھاگ کرمبینہ طور پر اپنے والدین کے گھر واپس آیا تھا اور بعد میں علاقے کے مشتعل افراد نے اس کا گلا گھونٹ کر مارڈالا۔

مقامی تھانے کے پولیس آفیسر کا کہنا ہے کہ ہمیں یقین نہیں ہے کہ وہ نیروبی سے اپنے گاؤں تک کیسے سفر کرنے میں کامیاب رہا، یہ علاقیہ مکین ہیں جنہوں نے پہلے اس کی شناخت کی اور پولیس کو اطلاع دینے کے بجائے خود ہی اسے جان سے مارنے کا قدم اٹھایا۔

بچوں کا قاتل یہ جرم پانچ سال سے کرتا آ رہا ہے جب اس کی عمر 16سال تھی۔ اس نے مختلف موقعوں پر مزید آٹھ افراد کو بھی قتل کیا جن میں سے بیشتر کی لاشیں تاحال نہیں مل سکیں۔

متعلقہ خبریں