جی ٹی وی نیٹ ورک
پاکستان

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی عمران خان کی سرپرستی میں ہوئی ہے: رؤف کلاسرا

رؤف کلاسرا

اسلام آباد: رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اسپیکر کو ان تمام ارکان کی رکنیت معطل کردینی چاہیئے تھی لیکن ایسا نہیں کیا، اس کا مطلب یہ ہوا اسپیکر ملا ہوا ہے اور عمران خان کی سرپرستی میں سب کچھ ہوا۔

سینئر صحافی و تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے جی ٹی وی کے پروگرام مدمقابل میں گزشتہ روز قومی اسمبلی میں ہونے والے ہنگامے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کو بلڈرز، پراپرٹی ایجنٹس اور ٹریول اینجٹس نے ہائی جیک کرلیا ہے، اس وقت پارلیمان کو گینگسٹر چلارہے ہیں، وہاں کسی شریف اور پڑھے لکھے آدمی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا تھا کہ چودھری امیر حسین اور ایاز صادق سب سے کمزور قومی اسمبلی کے اسپیکر تھے لیکن وہ اتنے نہیں تھے جتنے موجودہ اسپیکر اسد قیصر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسپیکر اسد قیصر کی 7 ارکان پر قومی اسمبلی میں داخلے پر پابندی

ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر کو ان تمام ارکان کی رکنیت معطل کردینی چاہیئے تھی لیکن بجائے اس کے انہوں نے کہا جنہوں نے گندی گالیاں دی میں ان ارکان کو ایک دن کے لئے اسمبلی میں نہیں آنے دوں گا اس کا مطلب یہ ہوا اسپیکر ملا ہوا ہے، یہ سب منظم طریقے سے ہورہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی؛ کتاب لگنے سے ملیکہ بخاری کی آنکھ زخمی

رؤف کلاسرا کے مطابق اس تمام تر ہنگامہ آرائی کی ذمے داری تین لوگوں پر عائد ہوتی ہیں؛ پہلے نمبر پر اسپیکر جن کا کام تھا ہاؤس کو کنٹرول کرنا مگر وہ ناکام رہے۔

دوسرے نمبر پر شہباز شریف جن کو چاہیئے تھا اپنے بینچ میں بیٹھے لوگوں کو کہتے خاموشی سے، سکون سے شوکت ترین کی بجٹ تقریر سنو مگر انہوں نے بھی ایسا نہیں کیا، تاہم ہنگامہ کیا۔ تیسرے نمبر پر عمران خان ہے جن کی سرپرستی میں سب کچھ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی اجلاس؛ پی ٹی آئی رکن نے ن لیگی رکن کو بجٹ دستاویز دے ماری

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی اراکین کے اسمبلی میں رویے سے عمران خان خوش ہوں گے، تمام سیاسی جماعتوں کے اراکین کا رویہ شرمناک تھا۔ اگر ان لوگوں نے یہ ہی سب کچھ کرنا ہے تو اسمبلی بند کردے، عوام کے ٹیکسوں کے پیسے ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ رؤف کلاسرا نے 14 جون کے پروگرام میں انکشاف کرتے ہوے کہا تھا کہ ایک بجٹ سیشن کا فی میمبر 10 ہزار روپے کے لگ بھگ الاؤنس لیتا ہے، تنخواہ اس کے علاوہ ہے جبکہ ایک یومیہ سیشن عوام کی جیبوں پر تقریباً 35 لاکھ کا پڑتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا گالم گلوچ کلچر اور جارحانہ رویے میں حکومت کے اتحادی خاموش تھے اور سائیڈ پر ہوگئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ یہ اسٹریٹجی صرف پی ٹی آئی کی تھی، جس کی وجہ شہباز شریف کی بجٹ تقریر کے لئے بڑی تیاری سے آنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کے بجٹ کا پوسٹ مارٹم کرنا چاہتے ہیں، ان کے پاس سارے فیگرز ہے۔ اسی وجہ سے حکومت تقریر نہیں کرنے دے رہی تاکہ کوئی تنقید نہ ہو، عوام کو آگاہی نہ ہو۔

متعلقہ خبریں