عظیم ورثہ مکلی قبرستان زبوں حالی کا شکار

ٹھٹھہ: ایشیا کا سب سے بڑا قبرستان پاکستان کے شہر ٹھٹہ میں موجود، جسے یونیسکو کی جانب سے 80ء کی دہائی عالمی ورثہ قرار دیا گیا تھا۔ اس قبرستان میں کئی نامور مسلمان حکمرانوں کو بھی مدفون کیا گیا تھا۔

اس قبرستان کی ابتدا صدیوں پہلے اس وقت ہوئی جب یہاں خاتون مائی مکلی کو سپرد خاک کیا گیا تھا۔ یہاں سماں، ارغون، ترخان اور مغل ادوار کے شاہی خاندانوں کے 80 سے زائد یادگار موجود ہیں جو پتھر، اینٹوں یا دونوں کی مدد سے بنائے گئے ہیں۔

 ان پر فارسی، سندھی اور عربی زبان تحریر ہے۔ اس میں سے مقامی سندھی حکمران جام نظام الدین اور عیسیٰ بیگ ترخائن دوئم کے یادگار نمایاں ہیں۔

مسلمان حکمرانوں میں سے چوکور مقبرے میں حکمران جام نظام الدین بھی سپرد خاک ہیں۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ اس مقبرے کو سندھی اسلامی فنِ تعمیر کا بےمثال نمونہ کہتے ہیں۔

مؤرخین کے مطابق مقبرہ 1509 میں مکمل ہوا جس کی تعمیرکو پانچ سو برس سے زائد ہو گئے ہیں۔ مقبرہ پر بنائے گئے نقوش سندھ، راجپوتانہ اور گجراتی کے فن سنگ تراشی کے بہترین نمونے ہیں۔

سندھ پراڑتالیس سال حکمرانی کرنے والے بادشاہ جام نظام الدین اسوڈہ کا مقبرہ زبوں حالی کا شکارہے۔ جگہ جگہ دراریں پڑنے سے زمین بوس ہونے کا خطرہ ہے۔ مقبرے کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اگرفوری اقدامات نہ کیے گئے اور مزارات کو کھنڈرات بننے سے نہ روکا گیا تو عظیم ورثہ کا یہ مظہر اس کا مرقد بن جائے گا۔

نامور آرکیالوجسٹ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کا کہنا تھا کہ سماں فن تعمیر میں اس کی جھلک نظر آتی ہے جس میں زیادہ اثر پتھر کے فن کا ہے۔ ارغون اور ترخائن وسطی ایشیا سے آئے تھے انہوں نے اینٹ اور کاشی گری کا استعمال کیا۔ چونکہ مغل خود بھی وسطی ایشیا سے آئے تھے اور انڈیا میں انہیں سو سال ہوچکے تھے تو اس امتزاج نے ایک نئے طرح کے فن تعمیر کو جنم دیا۔