جی ٹی وی نیٹ ورک
کالمز و بلاگز

اگر آپ بد تمیز ہیں تو آپ ہمارے ٹی وی پروگرام کا حصہ بن سکتے ہیں !

آپ کا

آپ کو طارق عزیز شو کا نیلام گھر یاد ہوگا جس کو تمام گھر والے ایک ساتھ بیٹھ کردیکھتے تھے۔وہ صرف شو نہیں ہوتا تھا بلکہ بیک وقت انٹرٹینمنٹ بھی ہوتی تھی اور ساتھ ساتھ علم کا ذخیر بھی ہوتا تھا۔

اس پروگرام میں بڑے چھوٹے کی قید نہیں ہوتی تھی بلکہ ہر کسی کو اس پروگرام کا شدت سے انتظا ر ہوتا تھا ۔

 

اس پروگرام کو دیکھتے ہوئے کبھی بھی بچوں کو اپنے بڑوں سےنظریں نہیں چرانی پڑتی تھی اور نہ کبھی بڑوں کو چینل تبدیل کرنے کی حاجت درپیش ہوتی تھی، بلکہ ایک کھیل ٹی وی اسکرین پر جاری ہوتا تھا اور دوسرا کھیل گھروں پہ جاری ہوتا تھا کہ جب سب اپنے اپنے جواب دیتے تھے اور خود اپنے نمبر کیلکولیٹ کرکے بتاتے تھے۔ وہ خوبصورت وقت تواب گزر گیا اور آج کا ڈرؤنا دور آگیا۔طارق عزیز بھی رحلت فرماگئے اور ہمارےخوبصورٹ ٹی وی شوز بھی۔

یہ پڑھیں : یہاں ہر کوئی بد معاش ہے آپ بھی اور میں بھی 

 

پہلے ایک ٹی وی چینل ہوتا تھا اور وہ ہی کافی ہوتا تھا۔ایک جگہ سے انٹرٹینمنٹ ملتی تھی اور ایک ہی جگہ سے ادب بھی ۔مگر اب درجنوں ٹی وی چینلز موجود ہیں مگر مجال ہو کہ کسی جگہ ہمیں وہ انٹرٹینمنٹ مل جائے جو ہمیں نیلام گھر یا پرانے ٹی وی شوزسے ملتی تھی۔ آج درجنوں چینلز موجود ہیں جس پر درجنوں پروگرامزچل رہے ہیں جس میں بہت سے گیم شوز بھی جاری ہیں۔

 

پہلے بھی گیم شوز ہوتے تھے اور اس میں انعام بھی ملتے تھے لیکن پہلے انعام میں واٹر کولر ملتا تھا مگر اب بائیک ملتی ہے ، انعام میں پہلے کتاب ملتی تھی مگر اب موبائل ملتے ہیں، پہلےپورے سیشن میں ایک مہران کار ملتی تھی مگر اب روز انہ بڑی بڑی گاڑیاں ملتی ہے، ہاں البتہ پہلے والے شوز میں علم ملتا تھا مگر اب انٹرٹینمنٹ کے نام پرخرافات۔

 

Iconic 'Neelam Ghar' TV Host Tariq Aziz passes away at 84 | DESIblitz

 

پہلے جو پروگرامز ہوتے تھے اُ س میں ریٹنگ کی فکر نہیں ہوتی تھی، پروگرام پروڈیوسر ہو یا پروگرام کا میزبان ہر ایک کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہوتاتھا ۔ وہ تربیت یافتہ تھے ،ان کو اپنے اخلاقی حدود کا باخوبی علم تھا۔ وہ خود علم کے پیاسے تھے اس وجہ سے علم پھیلانے کے لئے کوشاں رہتے تھے۔

 

لیکن ذرا موازنہ کرنے کے لئے آج کل کے پروگرامز پر نظر ڈالئے۔ صرف اور صرف ریٹنگ مقصد ہے البتہ موضوع جتنا واہیات ہی کیوں نہ ہو، کوئی روکنے والا ہے اور نہ کوئی ٹوکنے والا۔ بس انٹرٹینمنٹ کے نام پر عجب عجب سی واہیات حرکتیں مسلسل جاری ہیں۔

 

اس بارے میں جانئے : مشہور ہونا آسان ہے  اور باصلاحیت ہونا مشکل ہے

 

ایک چینل ہے اُس پہ طر ح طرح کے پروگرامزنشر ہوتے ہیں ۔ان پروگرامزمیں ٹیلنٹڈ لوگوں کےبجائے مشہور لوگوں کوبلایا جاتا ہے ۔ وہ لوگ ٹیلنٹ سے کوسوں دور ہوتے ہیں البتہ سوشل میڈیا پر ان کے ملینز فالوؤرز ہوتے ہیں۔ ان کے پاس اچھا موبائل ہوتا ہے جس میں وہ طرح طرح کے موبائل فلٹرز استعمال کرکے اپنے اپ کو چار چاند لگادیتے ہیں۔

 

ان لوگوں کو پروگرام میں مہمان کے طور پر بلایا جاتا ہے اور دکھایا جاتا ہے کہ یہ فلاح سوشل میڈیا پر موجود ہیں اور ان کے ملین میں فالوورز ہیں۔ان میں سے اکثریت کے پاس کوئی ٹیلنٹ نہیں ہوتا نہ ان کو گائیکی آتی ہے نہ اداکاری اور نہ ڈانس، البتہ لپسنگ کرکے اور طرح طرح کے اسٹیپ کرکے وہ ویڈیو بناتے ہیں اور پھران کو لاکھوں لوگ دیکھ لیتے ہیں ۔جب دیکھنے والوں سے پوچھا جائے کہ کیوں دیکھ رہے ہو تو کہتے ہیں کہ ٹائم پاس کررہے ہیں بس۔

 

67% Viewers Think Many TV Programs Can't be Watched with Family

اس طرح کے کئی پروگرامز میں کُھلے عام بد تمیزیاں جاری ہیں جسے انٹرٹینمنٹ کہا جاتا ہے۔ یہ ہی نہیں ایک اور پروگرام ہے جس میں ایک مشہور میزبان طرح طرح کے ذومعنی سوالات کرتی ہیں جو کسی طور پر فیملی کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھاجاسکتا ۔

مگر افسوس کے ساتھ جب اس طرح کے لوگوں میں اخلاقی سمجھ بوجھ نہ ہو اور اقدار سے نابلد ہوں تو اس رویے کو ٹیلنٹ یا انٹرٹینمنٹ کہا جاتا ہے ۔بہرحال اس معاملے میں ہم کہ سکتے ہیں کہ اگر آپ بدتمیز ہے تو اِن پروگرامز کا حصہ باآسانی بن سکتے ہیں اور وہ بھی سلیبرٹی کے مقام پہ۔

نوٹ : جی ٹی وی نیٹ ورک اور اس کی پالیسی کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

 

متعلقہ خبریں