جی ٹی وی نیٹ ورک
انٹرٹینمنٹ

پاکستانی ڈرامے کا مستقبل بالکل بھی خطرے میں نہیں: ہمایوں سعید

ہمایوں سعید

ہمایوں سعید کا کہنا تھا کہ بہت سارے اداکاروں کو کورونا ہوا بھی اور ٹھیک بھی ہو گئے لیکن جنہیں کورونا نہیں ہوا وہ آج بھی دوسری لہر میں ڈرتے ہیں، ہینڈ سینیٹائزرز اور ماسکس کا استعمال کرتے ہیں، احتیاط کرتے ہیں

پاکستانی ویب سیریز کے ڈراموں پر اثرات سے متعلق ہمایوں سعید نے کہا کہ ویب سیریز کی وجہ سے پاکستانی ڈرامے کا مستقبل بالکل بھی خطرے میں نہیں پڑا اور اگلے 5 سے 6 سال تک تو ویب سیریز بالکل بھی ڈرامے کو متاثر نہیں کر سکیں گی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جو ڈراما بنا رہے ہیں اور جس طرح یہ لکھا جاتا ہے وہ ویب سیریز سے بالکل الگ ہے اور اسی لیے ناظرین ویب سیریز کو دیکھنے کے لیے تیار بھی نہیں ہیں۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ہمایوں سعید کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بننے والے ڈرامے سماجی مسائل کی نمائندگی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈراموں میں ساس، بہو کی سیاست کو دکھایا جاتا ہے، فحاشی نہیں دکھائی جاتی ہے۔

ہمایوں سعید کا مزید کہنا تھا کہ ڈراموں کی کہانیاں سماجی مسائل پر مبنی ہوتی ہیں تو کبھی کوئی ایسا سلگتا موضوع بھی چن لیا جاتا ہے جس کی کہانی آن ایئر جانے کے بعد تنقید کی زد میں آتی ہے۔

یہ بھی پڑ ھیں:پاکستانی میوزک کمپنی کے لئے بڑی خبر

اس تنقید سے متعلق ہمایوں سعید نے کہا کہ ‘میں ایسی تنقید کو جائز اس لیے نہیں سمجھتا کیونکہ ہمارے معاشرے میں جو ہو رہا ہے ہم وہی دکھا رہے ہیں تو پھر تنقید کیسی؟
اداکار نے بتایا کہ یہ تاثر کچھ درست بھی ہے کہ چینل کے ایما پر ڈراما تیار ہوتا ہے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ لکھاری کے ہاتھ بالکل ہی بندھے ہوتے ہیں تو یہ درست نہیں ہے کیونکہ سینئر مصنفین کو تو بالکل ڈکٹیشن نہیں دی جاتی۔

ہمایوں سعید نے مزید کہا کہ نئے لکھاری ہیں جنہیں رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے انہیں یقیناً ڈکٹیشن دی جاتی ہے کہ کیسے لکھیں اور کیا لکھ کر دیں۔
ہمایوں سعید کا کہنا تھا کہ اچھے لکھنے والے بہت کم رہ گئے ہیں لیکن خوش قسمتی سے ہمارے ہاں اچھا لکھنے والوں کی قدر کی جاتی ہے۔

ہمایوں سعید نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈراما دیکھنا لوگوں کی عادت بن چکی ہے وہ دیکھتے ہیں تو ریٹنگ آتی ہے۔
بعض مرتبہ ڈرامے کی کہانی اچھی نہ بھی ہو تو کچھ کرداروں کی بنیاد پر ڈراما چل جاتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ کرداروں میں اپنے آپ دیکھ رہے ہوتے ہیں، کہیں نہ کہیں وہ کردار کسی نہ کسی کی زندگی سے جڑے ہوتے ہیں۔

ہمایوں سعید نے کہا کہ جب ہم ‘میرے پاس تم ہو’ بنا رہے تھے تو اندازہ نہیں تھا کہ پورا پاکستان اس کے ساتھ جڑ جائے گا۔

ہمایوں سعید نے کہا کہ لوگ طلاق کو ڈرامے میں دکھانے پر خاصا اعتراض کرتے ہیں تو میرا ان سب سے سوال ہے کہ کیا ہمارے معاشرے میں طلاق کی شرح زیادہ نہیں ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ کیا شادی شدہ مرد دوستیاں نہیں کرتے؟ افیئرز نہیں چلاتے؟ کیا عورتیں بے وفائی نہیں کرتیں؟ بے شک اس چیز کی شرح بہت کم ہے لیکن ہے تو سہی۔

ہمایوں سعید نے کہا کہ ‘میرے پاس تم ہو’ میں عورت کی بے وفائی دکھائی گئی ہے تو اس پر دیکھنے والوں نے حد سے زیادہ اعتراض نہیں کیا لیکن اعتراض بھی ہوا، ڈراما دیکھنے والوں کی تعداد زیادہ تھی لہٰذا وہ اعتراض ہی دھندلا سا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں