جی ٹی وی نیٹ ورک
پاکستان

مسلط وزیراعظم میں صلاحیت نہیں کہ ملک چلاسکے: بلاول بھٹو

مسلط وزیراعظم میں

خیرپور: بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ پنجاب اور وفاق میں حکومت کی اپوزیشن پیپلزپارٹی کررہی ہے، اپوزیشن کی باقی جماعتیں اپوزیشن کی اپوزیشن کررہی ہیں، اختلافات ایک طرف رکھ کر حکومت کے خلاف متحد ہونا چاہیئے۔ مسلط وزیراعظم میں صلاحیت نہیں کہ ملک چلاسکے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا خیرپور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملک میں غربت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، حکومت کے پاس موجودہ غربت کا کوئی حل نہیں۔ پی ٹی آئی ایم ایف کی وجہ سے عوام کو تکلیف ملے گی، معاشی لحاظ سے ہم بنگلا دیش سے بھی پیچھے ہیں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہم معاشی طور پر افغانستان کا مقابلہ نہیں کرسکتے، کسی دور میں اتنی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اسٹیٹ بینک سے متعلق آرڈیننس کی مخالفت کرتے ہیں،

آرڈیننس کے تحت اسٹیٹ بینک پارلیمان اور عدالت کو جوابدہ نہیں ہوگا۔ پی ٹی آئی ایم ایف کی ڈیل سے پاکستان نے معاشی خودمختاری کھودی ہے، کونسی حکومتی ٹیم تھی جس نے 100روز میں مسائل حل کرنا تھے؟۔

یہ بھی پڑھیں: حفیظ شیخ کی عہدے سے برطرفی پی ڈی ایم کی فتح ہے: بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ موجودہ دورمیں ریلیف صرف امیروں کیلئے ہے، کہا تھا عثمان بزدار کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائیں ،کٹھ پتلی نظام ختم ہوجائے گا۔

پنجاب اور وفاق میں حکومت کی اپوزیشن پیپلزپارٹی کررہی ہے، اپوزیشن کی باقی جماعتیں اپوزیشن کی اپوزیشن کررہی ہیں۔ اختلافات ایک طرف رکھ کر حکومت کے خلاف متحد ہونا چاہیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو سب کا نقصان ہوگا، شہبازشریف قومی اسمبلی میں اور حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں۔ عمران خان آرڈیننس کے ذریعے کلبھوشن کو این آر او دینے کی کوشش کرتا ہے،

کیا پاکستان میں کبھی کوئی اتنا کنفیوژ وزیراعظم رہا ہے، سال گزرگئے اور کسی کو نہیں پتا وزیراعظم کی پالیسی کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کہتا ہے بھارت سے تجارت بحال کریں، آج تک عمران خان نے پارلیمان کو استعمال ہی نہیں کیا۔

مسلط وزیراعظم میں صلاحیت نہیں کہ ملک چلاسکے، پیپلزپارٹی نے ہر محاذ پر حکومت کا مقابلہ کیا، پیپلزپارٹی نے وفاق اور پنجاب میں بھی مقابلہ کیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر ہم مل کر کام کرتے تو وزیراعظم عمران خان کام نہیں کرپاتے، جواب دینے پر آئے تو ہر بات کا اچھا جواب دے سکتے ہیں لیکن ہم جواب نہیں دے رہے، ہم چاہتے ہیں دھاندلی نہ ہو صاف شفاف الیکشن ہوں۔

متعلقہ خبریں