جی ٹی وی نیٹ ورک
پاکستان

گزشتہ روز ہونیوالے کابینہ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

گزشتہ روز

پروگرام مد مقابل گزشتہ روز ہونے والے کابینہ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے لے آیا۔

سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے جی ٹی وی کے پروگرام مد مقابل میں انکشاف کیا کہ وزیراداخلہ شیخ رشید نے کابینہ اجلاس میں ممنوعہ بوراسلحہ لائسنس کی منظوری کے لیئے سمری پیش کی، جس پرلڑائی ہوئی۔ شیریں رحمان اس لمبی لسٹ والی سمری پر بھڑک اٹھی اور بھرپور مخالفت کی جبکہ سمری پر وزیراعظم نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔ عمران خان اس طرح کی سمری پر پہلے ہی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ میرا کام نہیں کہ میں یہاں بیٹھ کر لائسنسز بانٹوں۔

رؤف کلاسرا نے شیری مزاری کی تعریف کرتے ہوئے کہا ان کو داد دیں وہ ایسے ٹاپک پربھی اسٹینڈ لے لیتی ہیں جس پر باقی وزرا جل بھن جاتے ہیں اور طاقتور لوگوں کے نام کی وجہ سے خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔

صحافی عامر متین نے تبصرہ کرتے ہوے کہا اسلحے والا کام بہت خطرناک ہے اگر اسلحے کے لائسنس دیےجانے لگے تو معاشرے میں پچھلے بیس تیس سال سے اسلحے کی سرعام نمائش پر جو پابندی تھی اس کو خطرہ ہوگا اور بد امنی، انتہا پسندی پھیلے گی۔

کابینہ اجلاس میں بینکوں کےقرضوں سے متعلق تفصیل بتاتے ہوئے رؤف کلاسرا نے بتایا کہ آج اجلاس میں 4 بیبنکوں سے قرضے معاف کروانے والوں سے متعلق بھی بات چیت ہوئی کابینہ نے قرض معاف کروانے والوں کے نام ان بینک سے مانگے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی عمران خان کی سرپرستی میں ہوئی ہے: رؤف کلاسرا

ان کا مزید کہنا تھا عمران خان کی آسانی کے لیے ایک نام میرے پاس بھی ہے وہ ہے فہمیدہ مرزا جو کابینہ میں اس وقت بھی بیٹھی ہوئی ہیں، جب وہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اسپیکر تھیں تو انہوں نے بینک سے چوراسی کروڑ روپے کا قرضہ معاف کرایا۔ اگر کابینہ فہمیدہ مرزاکے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی تو باقیوں کے خلاف کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں رکھتی۔

سینئر تجزیہ کارعامر متین نے ڈریپ سے متعلق سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کابینہ نے عاصم رؤف کوآج سی ای او ڈریپ کے عہدے پر 3 ماہ کی ایکسٹینشن دے دی ہیں ۔ عاصم رؤف پر سنگین الزام ہے کہ انہوں نے 20ہزار دواؤں کو enlist کیا جن کی پرائس نہ تو فکس ہے اور نہ ہی وہ رجسٹرڈ ہیں۔ اب وہی دوائیں مارکیٹ میں موجود ہیں، 100روپے کی دوا چھ 6 ہزار روپے کی بک رہی ہے کیونکہ پرائس فکس نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا ایف آئی اے نے کہا کہ عاصم رؤف کے خلاف تفتیش کی جائے، جبکہ اس کے خلاف وزیر اعظم آفس نے ہی انکوائری کا حکم دیا تھا اور آج ان کی نوکری مین توسیع کردی گئی ہے۔

انہوں نے سوال کرتے ہوے کہا کیا پاکستان میں آپ کو کوئی اور معتبر بندہ نہیں ملا جس کو رکھا جا سکے، کیوں ایک متنازعہ آدمی کو ایکسٹینشن دی؟

متعلقہ خبریں