استعفے کی باتیں بنیاد ہیں، کہیں نہیں جا رہا: وزیر خزانہ

واشنگٹن: وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ ان کے استعفے کی باتیں بے بنیاد ہیں میں کہیں نہیں جارہا، زرداری کی حکومت ہویانوازیاعمران خان کی ،آئی ایم ایف کے پاس سب کو جانا پڑا ہے، آئی ایم ایف کےساتھ معاملات طے پاگئے۔

وزیر خزانہ اس وقت واشنگٹن میں موجود ہیں جہاں میڈیا سے گفتگو کے دوران صحافی نے ان کے استعفے سے متعلق زیر گردش افواہوں سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے اس کا جواب شعر بڑھ کردیا، ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔

اسد عمر نے کہا کہ وزیراعظم کے بغیر بیرون ملک جاتا ہوں تو ایسی باتیں کی جاتی ہیں تاہم میں کہیں نہیں جارہا، وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستان کو تمہاری ضرورت ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام جلد مکمل ہو جائے گا، آئی ایم ایف کی شرائط سے پہلے ہی بنیادی تبدیلیاں کی جا چکی ہیں اور اگلا کام بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کا کرنا ہے، ہم پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی اصلاحات پر یقین رکھتے ہیں۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ خطرناک حد تک ادائیگیوں کے توازن کا بحران تھا جس سے نمٹنے کے لیے اقدامات لیے اور قیمتوں میں اضافے سے متعلق اقدامات پہلے ہی لیے جا چکے ہیں، ہم نے آپشنز پیدا کیے تھے اس لیے فوری طور پر آئی ایم ایف سے معاہدہ نہیں کیا، معیشت میں ایسے اقدامات لینے پڑتے ہیں۔

اسد عمر نے کہا کہ پہلے آئی ایم ایف کی تجاویز پاکستان کی معیشت کے لیے بہتر نہیں تھیں، اس لیے اُس وقت تک معاہدہ نہیں کیا جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی تجاویز نہ رکھے جو معیشت کی بہتری کے لیے ہوں،۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ فروری میں جاری کھاتوں کا خسارہ پچھلے سال کے مقابلے میں 72 فیصد کم تھا اور ہر ماہ تجارتی خسارے میں کمی آرہی ہے اور قلیل مدتی فنانسنگ کا بھی انتظام کرلیا، آئی ایم ایف پروگرام معیشت کو بہتری کی طرف لے جا سکےگا۔

ان کا کہنا تھا کہ علاقائی تجارت سے خطے کے عوام کی بہتری ہوگی، بھارت کے ساتھ دوطرفہ مسائل اور تجارت پر بات چیت کا ارادہ ہے، امید ہے بھارت میں آنے والی نئی حکومت پاکستان کے ساتھ بیٹھے گی۔

اسد عمر نے کہا کہ ترکی کے ساتھ اسٹریٹکجک اکنامک فریم ورک کا ڈرافٹ تیار کرلیا جس پر ایک ماہ میں دستخط کریں گے جب کہ ترکمانستان کے ساتھ گیس پائپ لائن معاہدہ ہوچکا ہے، آج افغانستان کے وزیرخزانہ اور تاجکستان کے نائب وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی، دونوں ممالک کے ساتھ تجارت بڑھا سکتے ہیں۔

اس سے پہلے پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک عرصےسےادائیگی کےتوازن سےمتعلق بحران کاشکارہے، پاکستان میں اسٹرکچرکی سطح پرکچھ چیزیں غلط ہیں، کچھ فیصلوں کی وجہ سے پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ زرداری کی حکومت ہویانوازیاعمران خان کی ،آئی ایم ایف کے پاس سب گئے ہیں، کچھ لوگ بھی قصوروار ہیں جن کی وجہ سے پاکستان آئی ایم ایف کےپاس گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف اےٹی ایف پرفیصلہ آیندہ ماہ آئےگا، اے ٹی ایف سے متعلق اپنی رپورٹ 15اپریل تک جمع کرائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کےساتھ معاملات طے پاگئے،آج حتمی شکل دی جائےگی، ملک میں چھوٹی صنعتوں کو فروغ دینا اولین ترجیح ہے۔