جی ٹی وی نیٹ ورک
کالمز و بلاگز

ماؤں کو بھی اپنی ” میں” ختم کرنا ہوگی

کو بھی

ہمارے ایک دوست ہے اور بہت قریبی ہیں۔ ایک لڑکی سے محبت کرتے ہیں اور گزشتہ 13 سال سے کررہے ہیں ۔ سونے پہ سہاگہ وہ لڑکی بھی ان سے محبت کرتی ہے۔لڑکا نارمل سا ہے اور لڑکی بھی۔ خوبصورتی میں بھی مناسب ہیں اور جسمانی طور پر بھی ۔

لڑکا کماتا بھی اچھا ہے ،اپنی چھوٹی موٹی جائیداد بھی بنالی ہے۔ عمر بھی برابر ہے ، خاندان بھی مڈل کلاس ہے اور ہاں سب سے بڑی خوش قسمتی مسلک بھی ایک ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ورنہ اب تک توچھوڑ چکیں ہوتے ۔

لڑکی کے گھراس کے لئے رشے آتے ہیں مگر وہ بہانے بہانے سے انکار کردیتی ہے۔لڑکے کےپاس بھی امی اور خالہ کی جانب سےآپشن آتے ہیں مگر وہ بھی انکار کردیتا ہے۔بظاہر ان دونوں کے رشتے میں کوئی رکاوٹ نہیں مگر پھر بھی بات نہیں بنتی ،مطلب کوئی تو رُکاوٹ ہوگی تبھی تو 13 سال ہوگئے۔

 

اس بارے میں پڑھیں : اخلاق سے عاری قوم

 

ایک رخ یہ تھا جو اوپر بیان ہوا جو بہت خوبصور ت تھا اب دوسرا رخ جانئے۔ پچھلے کئی سال سے ان دونوں خاندان کے درمیان مذاکرات یعنی رشتہ کرانے کی کوششیں جاری ہیں مگرایک کردار ایسا ہے

جو اس رشتے کے خلاف ہے اور وہ ہے لڑکے کی اماں۔جی لڑکے کی اماں، جو نہ جانے کس وجہ سے اپنے بیٹے کی پسند کے خلاف ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔

اس پورے معاملے میں لڑکا اور لڑکی دونوں پِس رہے ہیں ۔ وہ فرمانبردار بیٹاجس کی وجہ سے گھر چل رہا ہےجس کا اپنا ذاتی فلیٹ بھی ہے مگر وہ ماں کو چھوڑنا بھی نہیں چاہتا مگر دوسری جانب وہ ایک سچے جذبے اور رشتے یعنی محبت سے بھی دور نہیں ہونا چاہتا۔ وہ چاہے تو بغاوت کرکے الگ گھر میں اپنی بیوی کے ساتھ رہ سکتا ہے مگر وہ یہ بھی نہیں کررہا بس اندر ہی اندر کڑُھتا جارہا ہے۔

the-son-has-the-right-to-marry-of-his-own-free-will-Urdu-blog

 

سوال یہ ہے کہ ماں نے اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزار لی ہے مگر اپنی خواہش یا اپنی ضد اپنے بیٹے پر تھوپ رہی ہے اور اس کی زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہ رہی ہیں۔ ماں کے فیصلے کا احترام ضروری ہے مگر یہ کیسا فیصلہ ہے جس میں آپ اپنے بیٹے کی پسند کو دھتکار رہی ہے کیونکہ آپ کی مرضی کی دلہن نہیں ہے ۔

کیا لڑکے کا حق نہیں ہے اپنی پسند سے شادی کرنے کا ، اور اگرلڑکا اپنی مرضی سے شادی کرلیں تو آپ اس کوبرُا بھلا کہے گی اور پھر زمانہ بھی کہے گا۔وہ تو بیٹا فرمانبردار ہے کہ الگ فلیٹ ہونے کے باوجود ابھی تک اپنےپاک ارادوں کی تکمیل نہیں کی اس پر توآ پ کو اس بات کی داد دینی چاہیئے کہ وہ اب تک آپ کے فیصلوں کے خلاف نہیں گیا اور ابھی تک خاموشی سے آپ کے فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کررہا ہے۔

اس بارے میں پڑھیں :  خواتین کا احترام ہم پر فرض ہے

اس طرح کی بہت سے مائیں ہیں جو ہمیشہ چاہتی ہے کہ ان کا بیٹا ہمیشہ ان کے فیصلوں پر چلے چاہے وہ غلط ہو یا صحیح ۔ لیکن اپنے بچوں کے صحیح فیصلوں پر بھی ہم ان کی بات نہیں مانتے ۔ اکثر والدین اور بلخصوص مائیں” میں” کا شکار ہوتی ہیں اوروہ اپنی حاکمیت کسی طور ختم نہیں کرنا چاہتی اور اس طرح کی فکر رکھنے والی خاتون کے گھر میں مسائل بھی دیکھنے میںآتے ہیں ۔

اس طرح کی ماؤں سے فقط گزارش یہ ہے کہ اس معاملے میں بھی ماں بن کر سوچیں اور بیٹے کی خوشی دیکھئے ۔ آپ اگر محبت و شفقت دیں گی تو گھر کا ماحول بھی اچھا ہوگا۔ اگر لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور وہ ایک پاکیزہ راستہ اپناناچاہتے ہیں تو ان کے سروں پر دست شفقت رکھیں نہ کہ ان کے خلاف کمر کس لے۔

 

نوٹ : جی ٹی وی نیٹ ورک اور اس کی پالیسی کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ خبریں