جی ٹی وی نیٹ ورک
Uncategorized

یہ فیصلہ کن جنگ ہے، بلیک میل نہیں ہوں گا، جہاں قانون توڑا عام جیل میں جائیں گے : وزیر اعظم

بلیک میل

اسلام آباد : وزیر اعظم نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ کن جنگ ہے، جتنی مرضی بلیک میل کریں، این آر او نہیں ملے گا، جلسے کرنے ہیں کرلیں، جہاں قانون توڑا جیل میں جائیں گے اور وہ جیل وی آئی پی جیل نہیں ہوگی۔

آل پاکستان لائرز فورم کے زیر اہتمام سیمینار سے وزیر اعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت علی کا قول ہے کہ کفر کا نظام چل جائے گا، مگر ظلم اور نا انصافی کا نظام نہیں چل سکتا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن سے قبل میں نے مدینہ کی ریاست کا نام نہیں لیا، کہ کہیں لوگ ایسا نہ کہیں کہ میں ووٹ لینے کے لیئے کہہ رہا ہوں، قائد اعظم نے کہا کہ ہمارا آئین چودہ سو سال پہلے بن گیا، علامہ اقبال کہتے تھے کہ مسلمان معاشرہ تب ہی اٹھا جب وہ مدینہ کی ریاست کی جانب گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مدینہ کی ریاست کی بنیاد قانون کی بالادستی تھی، کوئی انسان قانون سے بالاتر نہیں تھا، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد کیا کہ میری بیٹی بھی چوری کرے گی تو اسے بھی سزا ملے گی۔ وہ معاشرہ کبھی مقابلہ نہیں کرسکتا، جس میں قانون کی حکمرانی نہ ہو۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں پڑھنا چاہیے چاہیے کہ حضور اکرم ﷺ نے کیسے مدینہ کی ریاست قائم کی، کیسے مسلمان دنیا میں طاقت بنا۔ حضور اکرم ﷺ کی سنت پر جو چلے گا اور جو ملک مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چلے گا وہی طرقی کرے گا۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت فیصلہ کن وقت ہے، اس وقت سارے بیروزگار سیاست دان اکھٹے ہو گئے، ان سے پوچھیں یہ کیوں اکھٹے ہوئے، یہ قانون کی بالا دستی نہیں مانتے، یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی ہاتھ نہ لگائے، کوئی ہاتھ لگائے گا تو انتقامی کارروائی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ دو سال کے بعد عدالت فیصلہ دے تو وہ کہتا ہے کہ مجھے کیوں نکالا، وہ فیصلوں کو نہیں مانتا، کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ قانون ہم سے اوپر نہیں ہے۔ یہ سمجھ رہے ہیں کہ عمران خان کو بلیک میل کرلیں گے، ہمارے جلسے ان سے بڑے بڑے تھے، یہ دو سال بھی جلسے کرلیں ہم سے بڑا جلسہ نہیں کرسکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ ظلم کا مقابلہ کرنے کے لیئے نکلتے ہیں، چوری بچانے کے لیئے نہیں نکلتے، خود لندن بیٹھا ہے اور لوگوں کو کہہ رہا ہے کہ کارکنان ان کی چوری بچانے کے لیئے نکلیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے نئے ترجمان نے نواز شریف کو آیت اللہ خمینی سے ملادیا، میں دیکھ رہا تھا کہ کیا یہ لوگوں کو بیوقوف سمجھتے ہیں، کیا یہ لوگوں کو پاگل سمجھتے ہیں، آیت اللہ کو بندوق کی نوک پر بھیجا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کابینہ کی میٹنگ میں ہم سب پریشان بیٹھے تھے کہ ایک آدمی کو اتنی بیماری ہوسکتی ہیں؟ شیریں مزاری کی آنکھوں میں آنسو آگئے، اگر شیریں مزاری کی آنکھوں میں آنسو آگئے تو سوچیں کیسی بیماری بتائی گئی ہوگی۔ جیسے ہی نواز شریف کو لندن پہنچا، نیا نواز شریف نکل آیا، آیت اللہ خمینی کی لندن کی اربوں کی جائیدادیں نہیں تھیں، اس کی بیٹی کے نام لندن کے فلیٹ نہیں ہیں، کدھر آیت اللہ خمینی اور کدھر نہاری کھانے والا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے جب بیروزگاروں کی لائن دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ ان کے کارکنان کو شرم نہیں آتی کہ ان کے لیڈروں نے پیسہ چوری کیا، آج تک یہ نہیں بتاسکے کہ پیسہ کیسے باہر گیا، کرکٹ کھیل کر 40 سال پرانا ریکارڈ دکھایا، تین دفعہ کا پرائم منسٹر رسید نہ دکھا سکا، ان کے کارکنان کو شرم نہیں آتی، پھر میں نے دیکھا کہ ان کا ایک عہدیدار تین بجے تنظیم سازی کرنے چلا گیا، پھر اسے شکایت تھی کہ اس کے بھائی نے کیوں مارا، پھر میں سمجھ گیا۔

عمران خان نے کہا کہ یہ ملک اللہ کی نعمت ہے، کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا جہاں قانون نہیں ہوتا، جس ملک کے حکمران اپنے آپ کو قانون سے اوپر سمجھتے ہیں اور جب وہ کرپشن پر لگ جاتے ہیں، تو وہ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، ترقی نہیں کرسکتا۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ رپورٹ کے مطابق غریب ممالک سے ہر سال ایک ہزار ارب روپیہ امیر ملکوں میں جاتا ہے، اسی لیئے لوگ پیسہ کمانے باہر جاتے ہیں، جب حکمران اپنا علاج باہر کرائیں گے تو یہاں کہ اسپتال کیسے ٹھیک ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کن جنگ فیصلہ کرے گی۔ جتنی مرضی بلیک میل کریں، این آر او نہیں ملے گا، مشرف نے عدلیہ بحالی کے پریشر میں آکر این آر او دے گیا، مگر اس این ار او کی وجہ سے ان لوگوں نے ملک تباہ کردیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پیسہ ان کے لیئے گئے قرض واپس کرنے میں چلا جاتا ہے، کیسے ترقی ہوگی۔ بڑے بڑے امتحان آئے، ہمیں دیوالیہ ہونے سے بچنا پڑا، پھر کورونا آگیا، کورونا کے بعد ڈاکوؤں کے اتحاد نے ایف اے ٹی ایف میں این ار او لینے کے لیئے ہمیں پھسانے کی کوشش کی۔ ان کی منفافقت دیکھیں کہہ رہے ہیں کہ ہم این ار او نہیں مانگ رہے۔

عمران خان نے کہا کہ ادھر سے نکلے تو یہ گھبرا گئے، کیونکہ پاکستان اوپر جارہا ہے، پاکستان کی تاریخ کی سب سے زیادہ سیمینٹ کی سیل ہوئی، موٹر سائیکل کی بھی ریکارڈ سیل ہوئی، اس کا مطلب ہے کہ ملک آگے نکل رہا ہے، اسی وجہ سے انہیں جلدی ہے حکومت گرانے کی۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بھارت کا ایجنڈا  لے کر پھر رہا ہے وہ یہ پھر رہے ہیں، یہ فوج کے خلاف جو زبان استعمال کر رہے ہیں، یہ وہی ایجنڈا ہے جو بھارت کا فیٹف میں ہے، فوج نہ ہوتی تو ہمارا حال عراق اور شام جیسا ہوتا، ان کی قربانیوں کی وجہ سے ہم محفوظ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے کیوں فوج سے کوئی مسئلہ نہیں، کیوں فوج ہمارے ساتھ کھڑی ہے، کورونا اور کراچی میں نالوں پر مدد کی۔ عمران خان پیسہ بنانا شروع کردے تو سب سے پہلے آئی ایس آئی کو پتہ چلے گا کیوں وہ دنیا کی بہترین ایجنسی ہے۔ یہ سب اداروں کو کنٹرول کرلیتے ہیں فوج کو نہیں کرسکے، پانامہ میں سپریم کورٹ نے کہا کہ سارے ادارے ان لوگوں نے تباہ کردیئے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ یہ آئی ایس آئی ان کی چوری پکڑتی ہے تو اسی وجہ سے ان کی لڑائی ہوتی ہے، نواز شریف آئی ایس آئی کو پنجاب پولیس بنانا چاہتا ہے، یہ سارا وقت ڈرے ہوئے ہوتے ہیں۔ نواز شریف کہتا ہے کہ ظہیر اسلام نے کہا استعفیٰ دو اور تم نے اس سلیئے سن لیا کہ اسے پتہ تھا کہ تم نے چوری کی۔ اگر دھاندلی ہوتی تو ہمیں اتحادیوں کی ضرورت نہیں ہوتی، میں نے پہلے دن سے کہا تھا کہ حلقے کھول لیں، کیوں ہمیں پتہ کہ ہم نے دھاندلی نہیں کی۔ تھی

عمران خان نے کہا کہ ان کا یہ صرف ایک ایجنڈا ہے کہ انہیں این آر او مل جائے، جس دن ان کو این ار او مل گیا، اس دن پاکستان کی تباہی ہوگی، پاکستان نیچے چلا جائے گا، یہ چاہتے ہیں کہ اربوں کی چوری کرنے والوں کو معاف کردوں۔ آپ نے جتنے مرضی جلسے کرنے ہیں کرلیں، جہاں قانون توڑا جیل میں جائیں گے اور وہ جیل وی آئی پی جیل نہیں ہوگی، عام جیل ہوگی۔

متعلقہ خبریں