جی ٹی وی نیٹ ورک
انٹرٹینمنٹ

نامور شاعر ناصر کاظمی کا آج 95 واں یوم پیدائش

شاعری کے ساتھ صحافت اور ریڈیو پاکستان سے بھی منسلک رہے۔ قیام پاکستان کے دوران ہونے والے فسادات اور سقوط ڈھاکا نے ان کی حساس طبیعت پر گہرے اثرات مرتب کئے جو ان کے اشعار میں بخوبی نظر آتے ہیں

ناصر کاظمی نے غزل میں چھوٹی بحر کی شاعری کی روایت کو پروان چڑھایا، ان کی شاعری میں شدت اور کرختگی نہیں بلکہ احساس کی ایک دھیمی جھلک ہے جو روح میں اترتی محسوس ہوتی ہے۔

ناصر نے جو دکھ بیان کیے ہیں وہ سارے دکھ ہمارے جدید دور کے دکھ ہی ہیں، ناصر نے استعارے لفظیات کے پیمانے عشقیہ رکھے لیکن اس کے باطن میں اسے ہم آسانی سے محسوس کرسکتے ہیں۔ جب ان کے اشعار سر اور تال کے ساتھ مل کر سماعتوں تک پہنچتے ہیں تو ایک خوش گوار احساس دلوں کوچھو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت کی میڈیا پالیسی کےخلاف صحافتی تنظیموں کا احتجاج

ناصر کاظمی 1972 میں معدے کے کینسر میں مبتلا ہوکر اس دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن ان کے الفاظ آج بھی ہر سو خوشبو پھیلارہے ہیں۔

متعلقہ خبریں