جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

سانحہ بلدیہ : فیکٹری کے مالک کا عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ، مزید انکشافات

فیکٹری کے مالک

کراچی : سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مالک ارشد بھائلہ نے عدالت میں ریکارڈ کیئے گئے اپنے بیان میں مزید انکشافات کردیئے ہیں۔

بلدیہ فیکٹری کے مالک ارشد بھائلہ نے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج سامنے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کیا، جس کی کاپی جی نیوز نے حاصل کرلی ہے۔

علی انٹر پرائز کے مالک نے جج کے سامنے سانحہ بلدیہ کے مزید انکشافات کردیئے ہیں۔ ارشد بھائلہ نے بتایا کہ منصور نے زبیر چریا کو فنشنگ ڈپارٹمنٹ کا انچارج بنایا، زبیر چریا نے فیکٹری میں ایم کیو ایم کا اثر ورسوخ بڑھایا، یہ تاثر قائم ہوگیا کہ فیکٹری کو ایم کیو ایم کارکنان کنٹرول کرتے ہیں۔

فیکٹری مالک نے کہا کہ منصور، زبیر اور سیکٹر انچارج کے بھائی ماجد بیگ میں گہری دوستی تھی۔ تینوں نے ایک ساتھ دبئی کا دورہ بھی کیا تھا، منصور نے ماجد بیگ کو فیکٹری کے ذریعے کار بھی دلوائی، ایم کیو ایم کارکنوں کا فیکٹری میں بلا روک ٹوک آنا جانا تھا۔

ارشد بھائلہ کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کا دہشت گرد وسیم دہلوی اپنی مرضی سے فیکٹری میں آتا جاتا تھا۔ منصور اور زبیر چریا وسیم دہلوی کے سارے مطالبات پورے کرتے تھے۔ بلدیہ سیکٹر کی مالی سپورٹ کیلئے فریال بیگ نامی شخص فیکٹری کا لاکھوں روپے کا ویسٹیج لے جاتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ منصور نے ہمیں بلدیہ سیکٹر کو ماہانہ 25 لاکھ روپے بھتہ دینے پر راضی کیا۔ ضمنی الیکشن سمیت دیگر پروگرام کیلئے بھی رقم دیتے تھے۔ بعد میں 2013 میں زبردستی زکوات کی دو لاکھ روپے کی پرچی بھی دی گئی۔ جون 2012 میں ماجد بیگ نے کروڑوں روپے بھتے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں : سندھ حکومت کا عزیر بلوچ، سانحہ بلدیہ اور نثار مورائی کی جے آئی ٹیز پبلک کرنے کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ بعد میں ماجد بیگ کی جگہ رحمان بھولا کو سیکٹر انچارج بنادیا گیا، رحمان بھولا نے ہمیں روک کر کہا پیسے کا معاملہ بھائی سے طے کرو۔ پوچھنے پر بتایا بھائی حماد صدیقی ہیں، ایم کیوایم کے ٹی سی کے انچارج ہیں۔ حماد صدیقی نے 25 کروڑ روپے اور فیکٹری میں شراکت کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گیارہ ستمبر کو آگ سب سے پہلے گودام میں لگی اور تیزی سے پھیل گئی۔ آگ کی پھیلنے کی رفتار سے اندازہ ہوگیا تھا یہ آگ لگائی گئی ہے۔ مسلسل رابطے کے باوجود فائر بریگیڈ نہیں پہنچی۔ اکاؤنٹس افسر مجید خود گیا اور فائر بریگیڈ لے کر آیا جب ڈیڑھ گھنٹہ گزر چکا تھا۔

ان کا یہ بھی بتانا تھا کہ ایم کیو ایم کارکنوں نے فیکٹری پر قبضہ کرکے بچنے والی قیمتی اشیاء بھی ہتھیا لی۔ سانحہ کے بعد ایم کیو ایم کی طرف سے مسلسل دباؤ اور دھمکیاں ملتی رہیں۔ ایم کیو ایم نے دباؤ ڈالا کہ بھتے کے معاملات کا کسی سے ذکر نہ کریں۔ ہم نے تحقیقاتی کمیشن کو فارنسک کرانے کیلئے اخراجات برداشت کرنے کی بھی پیشکش کی۔

بلدیہ فیکٹری کے مالک نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کارکنوں نے ہمیں جاں بحق ہونے والوں کی اجتماعی نماز جنازہ سے دھکے دے کر نکال دیا۔ ایم کیو ایم کے دباؤ پر پولیس نے رپورٹ میں لکھا فیکٹری کے دروازے بند تھے۔ تحقیقاتی کمیشن اور ایف آئی اے رپورٹ میں واضح ہے دروازے کھلے تھے۔

انہوں نے کہا کہ انیس قائم خانی یا ان کے اہل خانہ سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی، انیس قائم خانی سے رقم کی ادائیگی کی تصدیق نہیں کی تھی۔ متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی کیلئے 5 کروڑ 98 لاکھ روپے انیس قائم خانی کے نام پر وصول کیے گئے۔

متعلقہ خبریں