جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبریں

آج قومی زبان اردو کا دن ” بغیر ” جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے -جی ٹی وی اداریہ

urdu-is-our-national-language-Urdu-blog

25 فروری 1948 کو قائد اعظم محمد علی جناح کی سربراہی میں ایک اجلاس ہوا اوراس اجلاس میں اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا ۔یعنی یہ فیصلہ پاکستان بنانے والوں کا تھا اور پھر اس دن سے اردو قومی زبان کی حیثیت اختیار کرگئی ۔لیکن یوم اردو کے دن اس قدر سناٹا کیوں ہے؟

 

نہ کوئی تقریب ہے اور نہ کوئی محفل بیاد اردو ، نہ سرکاری اعلامیہ ہے اور نہ حکومتی سطح پر کوئی خاص پیغام جاری ہوا۔ ہم صوبائی زبانوں کے دن تو مناتے  ہیں اور دھوم دھام سے مناتے ہیںمگر قومی زبان کا دن نہیں مناتے، آخر یہ تعصب اردو زبان یعنی قومی زباکے لئے کیوں ؟ کیا صرف آئین تک ہی اردو ہماری قومی زبان ہے لیکن اس کی ترقی، خدمات اور اس کی ضروریات پر آخر کوئی بات کیوں نہیں کرتا ہے۔

 

 

یہ ارضِ پاک صورتِ کشتی ہے دوستو!
اور اس میں بادبان ہے اردو زبان کا

 

اردو ہمارے لیے صرف زبان نہیں بلکہ مشترکہ وراثت ہے: وزیر مملکت برائے تعلیم

 

اردو زبان صرف قومی زبان ہی نہیں بلکہ اردو زبان تہذیب کی زبان ہے ،اردو زبان ادب کی زبان ہے، اردو زبان سلیقے کی زبان ہے ،اردو زبان تاریخ کی زبان ہے ، اردو زبان اخلاق کی زبان ہے ، اردو زبان اخلاص کی زبان ہے ، اردو زبان پاکستان کی اصل شناخت اور ثقافت کی زبان ہے،اردو زبان قلب کی آوازہے، اردو زبان مٹھاس کی زبان ہے۔ آخر اس زبان سے دوری کی وجہ کیا ہے ؟

 

اردو زبان میں ہے گھلی شہد کی مٹھاس
لہجہ بھی مہربان ہے اردو زبان کا

 

اس بارے میں پڑھیں : مغربی تکلم بمقابلہ  دیسی تکلم 

 

مگر کیوں ؟ آخر کیوں قومی زبان سے اس قدر بے اعتنائی برتی جاتی ہے ۔آخر کیوںاردو کو ایک کمیونٹی کی زبان سمجھا جاتا ہے آخر کیوں اردو کو ایک شہر کی زبان سمجھا جاتا ہے آخر کیوں اردو کو ایک لسانی گروہ کی زبان سمجھا جاتا ہے۔

 

اردو مادری زبان ہے اور مادری زبان سے دوری کا مطلب ہے اپنے اصل سے فرار ہونا۔اردو کا نفاذ ہمارے ملک اور اس میں رہنے والی عوام کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ نہ صرف ہماری ثقافت کا حصہ ہے بلکہ ہمارے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی خواہش بھی ہے۔ اردو ہی ہماری شناخت ہے اور ہر زندہ قوم کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنی قومی اثاثوں کو نہ صرف سنبھال کر رکھتی ہیں بلکہ اس کا نفاذ بھی یقینی بناتی ہیں۔

 

اس لشکری زبان کی عظمت نہ پوچھیے
عظمت تو خود نشان ہے اردو زبان کا

 

زبان کیا ہے؟ کوئی لفظ ایسا نہیں، جو حروفِ تہجی کے دائرہ کار سے

 

ہر صوبے اور علاقے کا رہنا والا اپنے صوبے اور شہر کی زبان اور بولی کا دن مناتا ہے مگر اردو زبان کے دن کے موقع پر اپنی مادری زبان کو یاد نہیں کرتا ۔ کراچی یعنی اردو زبان کا گڑ ھ ، اس شہر میں پورے ملک سے لوگ بستے ہیں یعنی ہر زبان ، ہر مذہب اور ہر فکر سے تعلق رکھنےوالے لوگ اس شہر میں بستے ہیں اور اس زبان اردو میں تکلم کرتے ہیں بلکہ دوسرے ملک میں بسنے والے پاکستانی جو مختلف زبان سے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی جب ملتے ہیں تو اردو میں ہی تکلم کو ترجیح دیتے ہیں۔

 

 

چرچا ہر ایک آن ہے اردو زبان کا
گرویدہ کل جہان ہے اردو زبان کا

 

 اس بارے میں پڑھیئے :  کراچی کا کوئی نہیں 

 

یاد رہے قائداعظم محمد علی جناحؒ نے 25 فروری 1948 کو اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا تھا، جسے قانون ساز اسمبلی نے متفقہ طور پر منظورکیا۔ دستور پاکستان 1973 میں اردو کو قومی زبان قرار دیتے ہوئے پندرہ سالوں میں سارے نظام مملکت کو اردو میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

 

اردو زبان میں اِملا و تلفظ کی عمومی اغلاط - ایکسپریس اردو

 

سپریم کورٹ پاکستان نے 8ستمبر 2015 کو دستور کے آرٹیکل 251 کے مطابق قومی زبان اردو کو ریاست کے تمام شعبہ جات میں بطور دفتری، سرکاری اور تعلیمی زبان نافذ کرنے کا حکم دیا تھا۔

 

جس میں سی ایس ایس سمیت تمام سرکاری ملازمتوں کے امتحان اور انٹرویو بھی اردو میں لینے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اسے بنیادی انسانی حق تسلیم کرتے ہوئے فوری نفاذ کا حکم دیا لیکن اب تلک اردو سے متعلق ہر فیصلہ تعبیر کی راہ دیکھ رہا ہے۔ ہم وزیراعظم سمیت ہر متعلقہ اداروں سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی قومی زبان کو عزت دی جائے اور اسے ہرشعبہ زندگی میں فوری طور پر نافذ کیا جائے۔

 

 

پائے گا جلد منزلِ مقصود بالیقیں
جاری جو کاروان ہے اردو زبان کا

 

متعلقہ خبریں