جی ٹی وی نیٹ ورک
عالمی سیاست

بغداد میں امریکی سفارتخانہ نذر آتش، عراقی عوام کا حملوں پر ردعمل

بغداد میں امریکی سفارتخانہ
بغداد میں امریکی سفارتخانہ نذر آتش، عراقی عوام کا حملوں پر ردعمل۔ امریکی افواج نے فضائی حملوں میں عراق کی عوامی رضاکار فورس میں شامل ایک گروہ کے پچیس افراد کو شہید کردیا تھا۔ آج بروز منگل ان کی نماز جنازہ کے بعد عراقی عوام نے امریکی سفارتخانے کے باہر مظاہرہ کیا۔

مشتعل مظاہرین نے امریکا مخالف نعرے لگاتے ہوئے امریکی انخلاء کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کرنے والے عراقیوں نے پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا. انکا مطالبہ ہے کہامریکی افواج کے انخلاء کا باضابطہ مطالبہ کرے۔

عراق حکومت کا موقف

دوسری جانب عراق کے صدر برہم صالح،  نگراں وزیر اعظم عادل عبدالمہدی اور عراق کی قومی سلامتی کاؤنسل نے حشد الشعبی کے کتائب حزب اللہ گروہ پر امریکی فضائی حملوں کی مذمت کی۔
انہوں نے اسے عراق کے اندر امریکا کی مداخلت سے تعبیر کیا۔
 امریکی روزنامہ واشنگٹن پوسٹ نے بھی عراق کی قومی سلامتی کاؤنسل کے ایک ہنگامی اجلاس کی خبر دی۔
کائونسل نے امریکی حملوں کو  امریکی افواج کی موجودگی کے لئے مقرر کردہ قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
 عراق کے صدر برہم صالح نے امریکی سفارتخانے فون کرکے اپنی مخالفت کا اظہار کیا۔ انکا کہنا تھا کہ یہ امریکی حملے عراق کے لئے نقصان دہ ہیں اور ناقابل قبول بھی۔
 یاد رہے کہ عراق کی حکومت اور عوام دونوں ہی امریکی حملوں کی مخالفت و مذمت کررہے ہیں۔۔

بغداد میں امریکی سفارتخانہ نذر آتش

مشتعل مظاہرین میں سے بعض نے جزوی طور پر سفارتخانہ کو جلانے کی کوشش کی۔
مشتعل مظاہرین کے ردعمل کے پیش نظر امریکی سفیراور دیگر سفارتکاروں کو سفارتخانے سے دوسری محفوظ جگہ منتقل کردیا گیا۔

 

مظاہرین پر فائرنگ

 سفارتخانے کے اندر موجود امریکی اہلکار اور باہر تعینات عراقی اہلکاروں نے مظاہرین پر فائرنگ بھی کی۔  امریکی اہلکاروں نے آنسو گیس شیلنگ اوردھماکہ خیز فلیش بینگ بھی فائر کئے۔
 وہاں مقیم امریکی شہریوں کو گرین زون بغداد میں واقع امریکی سفارتخانے سے دور رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ سفارتخانے کی جانب سے اس ضمن میں بیان جاری کیا گیا ہے۔

امریکی صدر کا الزام اور زمینی حقائق

 گوکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراقی عوام کے احتجاج کا الزام ایران پر دھرا ہے۔  مگر عراق کے زمینی حقائق اسکی تردید کرتے نظر آتے ہیں۔
کیونکہ داعش دہشت گردوں کے خلاف آیت اللہ سیستانی کے فتوے کی روشنی میں عراق کے عوام پر مشتمل رضاکار فورس قائم ہوئی۔
اسکا نام حشد الشعبی یا عوامی لشکر رکھا۔  اس رضاکار فورس نے عراق کی مسلح افواج کے شانہ بشانہ عراق کے دفاع کی جنگ لڑی۔
 کتائب حزب اللہ عراق بھی حشد الشعبی یعنی عراق کے عوام کی رضاکار فورس کا ایک حصہ ہی ہے۔ 
اس لئے عراقی عوام امریکی حکومت کے موقف کے خلاف آج سفارتخانے کے باہر جمع ہوئے۔
امریکی حملوں میں حشد الشعبی میں شامل کتائب حزب اللہ کے پچیس افراد شہید ہوئے تھے۔ امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے ان حملوں کو جوابی کار روائی قرار دیا.
.
بغداد میں امریکی سفارتخانہ نذر آتش

متعلقہ خبریں