امریکا کا ایران پر دہشتگردوں کی معاونت کا الزام، ایران نے مسترد کردیئے

ایران نے

تہران : امریکی وزیر خارجہ نے ایران پر دہشتگردوں کی معاونت کے الزامات لگائے، جسے ایرانی وزیر خارجہ نے مسترد کردیئے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے ترک ہم منصب سے ترکی کے شمالی شام میں آپریشن کی مخالفت کی ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ایران مذاکرات اور امن چاہتا ہے تو حزب اللہ، انصار اللہ اور حماس کی حمایت ختم کردے۔ مشرق وسطی کے ممالک میں ایرانی مداخلت ناقابل برداشت ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکی الزامات مسترد کر دیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت کا شوق نہیں ہے۔ امریکا خود خطے میں دہشتگرد گروپوں کا سب سے بڑا سرپرست ہے۔

دوسری طرف ایران نے ترکی کی جانب سے کردوں کے خلاف شمالی شام میں آپریشن کی مخالفت کی ہے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ترک ہم منصب سے اس متعلق ٹیلی فونک گفتگو کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران : امریکا اور برطانیہ کے لیئے جاسوسی کرنے پر چار افراد کو سزا

ایرانی وزارت خارجہ نے جواد ظریف کی ترک ہم منصب سے گفتگو کا بیان جاری کردیا ہے۔ جس میں جواد ظریف کا کہنا ہے کہ ایران شام میں ترک فوجی آپریشن کی مخالفت کرتا ہے۔ ترکی شام کی علاقائی سالمیت، خود مختاری کا احترام کرے۔

وزارت خارجہ کے کہنا ہے کہ جواد ظریف نے شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ، استحکام، سلامتی کی ضرورت پر زور دیا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر نے ترکی کہ واضح دھمکی دے دی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ترکی نے کچھ بھی آف لمٹ کیا تو ترکی کی معیشت کو پوری طرح سے برباد کر دوں گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے شمال مشرقی شام سے امریکی فوج کے ہٹنے کے بعد وہاں کچھ بھی آف لمٹ کیا تو ٹھیک نہیں ہو گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی شام میں موجود امریکہ کے تقریباً پچاس فوجیوں پر کسی بھی طرح کا نقصان نہ پہنچانے کی ترکی کو تنبیہ کی۔

ٹرمپ نے کہا کا کہنا تھا کہ شام میں صرف کچھ ہی وقت کے لئے حملہ کئے جانے تھے۔ ہمارے صرف 50 فوجی وہاں ہیں اور میں نہیں چاہتا ان کو کسی بھی طرح کا نقصان پہنچے۔