جی ٹی وی نیٹ ورک
دنیا

امریکی صدر نے ذمہ داری لے لی، کابل چھوڑنے کے علاوہ متبادل نہیں تھا : جو بائیڈن

کابل چھوڑنے کے علاوہ

واشنگٹن : امریکی صدر کا کہنا ہے کہ چین سے سخت مقابلے کا سامنا ہے، ہمارے پاس کابل چھوڑنے کے علاوہ کوئی اور متبادل نہیں تھا۔

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے انخلاء کے بعد قوم کو اعتماد میں لینے کے لیئے خطاب کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ امریکا کی طویل ترین افغان جنگ کا خاتمہ ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کو ختم کرنے کے موضوع کا سامنا کرنے والا چوتھا صدر ہوں۔ میں نے اسے ختم کرنے کے لئے امریکیوں سے وعدہ کیا اور اپنے وعدے کا احترام بھی کیا۔ افغانستان میں داعش کی کمر توڑ دی۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ ہمیں پہلے لینا چاہئے تھا۔ میں اس سے متفق نہیں ہوں کیونکہ اگر یہ پہلے ہوتا تو وہاں بدامنی کا ماحول پیدا ہوجاتا اور خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوجاتی۔ ایسے میں بغیر چیلنج اور خطرے کے وہاں سے نکلا نہیں جاسکتا تھا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے انخلا کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کابل سے فوجیوں اور شہریوں کے انخلاء کا چیلنج پورا کیا۔

یہ بھی پڑھیں : افغانستان سے فوجی مشن ختم، سفارتی مشن شروع ہوچکا ہے : امریکی وزیر خارجہ

انہوں نے کہا کہ 30 ہزار افغان فوجیوں کو 20 سال میں تربیت دی، کابل کی سیکیورٹی کیلئے 6 ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی منظوری دی۔ افغانستان سے انخلاء کا فیصلہ سول اور عسکری قیادت نے مشترکہ کیا۔ فیصلے کی پوری ذمے داری لیتا ہوں اور فیصلہ اس یقین پر کیا کہ افغان حکومت معاملات سنبھال لے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں اب بھی 200 کے قریب امریکی موجود ہیں۔ ہمارے جو شہری افغانستان سے واپس آنا چاہتے ہیں ان کو ہر صورت واپس لائیں گے۔ 17 دن پہلے جب انخلاء کا فیصلہ کیا تو حالات کا باریکی سے جائزہ لیا۔

جو بائیڈن نے مزید کہا کہ داعش کے حملے میں ہلاک 13 امریکی فوجیوں کا کوئی نعم البدل نہیں۔ امریکی افواج کی افغانستان میں قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ فوج نے خطرناک مشن احسن طریقے سے پورا کیا۔ اندازہ نہیں تھا اشرف غنی افغانستان سے فرار ہوجائے گا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ طالبان کے بیانات پر یقین نہیں ان کے عمل کو دیکھیں گے۔ سلامتی کونسل نے بھی طالبان کو وعدے پورے کرنے کی تائید کی۔ طالبان نے خود انخلاء کیلئے محفوظ راستہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے پاس کابل چھوڑنے کے علاوہ کوئی اور متبادل نہیں تھا۔ ہم نے امریکی مفاد کے لئے کابل چھوڑا۔ ہم چین سے سخت مقابلے کا سامنا کر رہے ہیں۔ روس بھی ہمیں چیلنج دے رہا ہے۔ ہم افغانستان میں ان سے مقابلہ نہیں کرنا چاہتے۔ ہم نئے راستوں سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ ہماری غیرملکی پالیسی ملکی مفاد میں ہونی چاہئے۔

متعلقہ خبریں