جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

یکم اکتوبر سے ویکسی نیشن کی بنیاد پر بندشیں لگیں گی: اسد عمر

ویکسی نیشن کی

اسلام آباد: اسد عمر کا کہنا ہے کہ یکم اکتوبر سے ویکسی نیشن کی بنیاد پر بندشیں لگیں گی، 40 فیصد سے کم ویکسی نیشن والے علاقوں میں بندشیں لگائی جائیں گی۔

سربراہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کی ریر صدارت این سی او سی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں ویکسین لگانے کے عمل کا جائزہ لیا گیا۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ سال سے پاکستان دنیا کی طرح کورونا کا مقابلہ کر رہا ہے، بند شوں کا فیصلہ وبا کا پھیلاؤ دیکھ کر کیا جاتا ہے، دنیا سمجھ چکی ہے اس وبا سے نکلنے کا طریقہ ویکسی نیشن ہے۔

یہ بھی پڑھی: پنجاب میں آج سے شادی ہالز میں کورونا ویکسی نیشن کی خصوصی چیکنگ عمل میں لائی جائیگی

ان کا کہنا تھا کہ 8 شہروں کی بندش میں کمی کرنے جارہے ہیں، ان شہروں میں اسلام آباد، راولپنڈی، کوئٹہ، مظفرآباد شامل ہیں۔

سربراہ این سی او سی کا کہنا تھا کہ یکم اکتوبر سے ویکسی نیشن کی بنیاد پر بندشیں لگیں گی، 40 فیصد سے کم ویکسی نیشن والے علاقوں میں بندشیں لگائی جائیں گی، اجتماع میں افراد کی تعداد 200 سے 300 کی جارہی ہے، مزارات، سینما گھر ویکسی نیٹڈ افراد کے لیے کھولے جائیں گے۔

این سی او سی کے مطابق ٹی ٹوئنٹی میچز کے لیے گراؤنڈ میں شائقین کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں 50 فیصد شائقین میچ دیکھ سکیں گے۔

این سی او سی کا کہنا ہے کہ ویکسینیٹڈ افراد کوکرکٹ اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے کی اجازت ہوگی لہٰذا پی سی بی ویکسینیٹڈ افراد کو ٹکٹ اجراء کے لیے میکنزم تیار کرے گا۔

این سی او سی کے مطابق پی سی بی کرکٹ میچز کے لیے سکیورٹی انتظامات کا ذمہ دار ہوگا اور کرکٹ گراؤنڈ میں ایس اوپیز پر عملدرآمد کی ذمہ داری بھی بورڈ پر ہوگی، اسٹیڈیم میں تماشائیوں کے لیے ماسک اور سماجی فاصلہ رکھنا لازم ہوگا۔

دوسری جانب ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ ملک میں ویکسین وافر مقدار میں موجود ہے، ویکسی نیشن کی مہم بہت اچھی چل رہی ہے، جب ویکسین نہیں تھی تو انحصار پابندیوں پر تھا، اب ہماری اسٹریٹجی ویکسین پر منحصر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 12 سال سے اوپر بچوں کےلیے ویکسین کی اجازت دی ہے، ہمارے تعلیمی اداروں نے کورونا میں بہت مشکلات کا سامنا کیا ہے، بچوں کو ویکسین لگانا وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اہم ہے۔

فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ حاملہ خواتین بھی ویکسین لگواسکتی ہیں، بیماری سے مکمل بچاؤ کے لیے دوسری ڈوز لگنا بہت ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں