جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

کراچی کے مسائل کو لیکر مرتضیٰ وہاب اور وسیم اختر کے درمیان لفظی گولا باری

مرتضیٰ وہاب اور

کراچی: مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ وفاقی اداروں کو بھی قانون کے تحت ٹیکس ادا کرنا چاہیے، ہم وسیم اختر کی طرح اختیارات کا رونا نہیں رو تے۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کا جی ٹی وی نیوز کے پروگرام’’سات سے آٹھ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جہاں جہاں بارش ہوئی وہاں پر جمع ہونے والے پانی کو نکال دیا گیا ہے، ناگن چورنگی پر گرین لائن اسٹرکچر کی وجہ سے پانی رکا ہوا تھا، سخی حسن سے ناگن چورنگی پر 3 فٹ پانی جمع تھا۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ گرین لائن کے اسٹرکچر کی وجہ سے پانی رکتا ہے، گرین لائن کی انتظامیہ کی غفلت سے ہی پانی جمع ہوتا ہے، ڈرین سسٹم ٹھیک کام کررہے تھے، ہماری انتظامیہ نے سڑکوں پر محنت کے ساتھ کام کیا، یوسف گوٹھ میں ترقیاتی کام کی وجہ سے پانی جمع ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بارشوں میں انتظامیہ سڑکوں پر متحرک رہے گی، کچھ لوگوں کا کام صرف باتیں بنانا ہے، عدالتوں کو حکومتوں کا کا احترام کرنا چاہیے، کے ایم سی کا کوئی اضافی ٹیکس نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی وی فیس جمع ہوتی ہے، بلدیہ عظمیٰ کیلئے ٹیکس اکھٹا نہیں کیا جاسکتا؟ مرتضیٰ وہاب

انہوں نے کہا کہ وسیم اختر اور مصطفیٰ کمال کے دور میں ٹیکس لگا ہوا تھا یا نہیں؟، وفاقی اداروں کو بھی قانون کے تحت ٹیکس ادا کرنا چاہیے، ہم وسیم اختر کی طرح اختیارات کا رونا نہیں رو تے۔

دوسری جانب جواب میں وسیم اختر کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کا لوٹ مار کا پلان ہے، 13 سالوں سے کچرا کیوں نہیں اٹھایا جارہا، سیوریج کا نظام کیو ں آج تک ٹھیک نہیں ہورہا، موٹرویز کا ٹیکس پیپلزپارٹی والے لیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی والے پیسے کھا جاتے ہیں، کے ایم سی کے تمام ٹیکس پیپلزپارٹی والے وصول کرتے ہیں، کراچی والے اب پیپلزپارٹی کو ٹیکس نہیں دیں گے، کراچی کا ٹیکس کراچی پر ہی لگنا چاہیے، لاڑکانہ، دادو ، سانگھر ، سیہون ٹیکس نہیں دیتا۔

متعلقہ خبریں